سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے سنگین خطرات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات کا وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، انہوں نے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر مؤثر حفاظتی اقدامات کریں۔
کملا ہیرس نے جنوبی کوریا کے اسان انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مصنوعی ذہانت کے لیے حفاظتی حدود اور اقدامات متعین کرنے ہیں تو اس کے ماہرین اور اسے تیار کرنے والی کمپنیوں کو بھی اس عمل میں شامل کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت خطرہ یا ٹیکنالوجی کا انقلاب، اقوام عالم اسے ریگولیٹ کیوں کرنا چاہتی ہیں؟
کملا ہیرس نے مصنوعی ذہانت سے جڑے 3 بڑے خطرات کی نشاندہی کی، جن میں سائبر سیکیورٹی کو لاحق خطرات، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے خودمختار ہتھیاروں کا بے قابو استعمال اور ایسے خودمختار نظام شامل ہیں جو انسانی نگرانی کے بغیر کام کرسکتے ہیں۔
انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ چین کے ساتھ وسیع تر اسٹریٹجک مسابقت کو مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دے۔
سابق امریکی نائب صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر مستقل ٹیرف پالیسی اور جوابی کارروائی پر مبنی تجارتی اقدامات پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ لین دین پر مبنی محدود سوچ اپنانے سے عالمی سطح پر امریکا کا اثر و رسوخ کم ہوسکتا ہے۔
کملا ہیرس نے جنوبی کوریا کی جانب سے امریکی جہاز سازی، سیمی کنڈکٹرز، برقی گاڑیوں اور صاف توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو سراہا اور امریکا پر جنوبی کوریا کے ساتھ اپنے عزم کی تجدید پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کا نیا خطرہ، ’کلاڈ‘ نے اوپن اے آئی کا سسٹم ہیک کرلیا
انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا، روس، چین اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون انتہائی عدم استحکام کا باعث ہے، جس کے پیش نظر اتحادی ممالک کو مضبوط دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔
کملا ہیرس 2026 کے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک امیدواروں کی انتخابی مہم بھی چلا رہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلیں گے، جس سے کانگریس کو ملکی اور خارجہ پالیسی، بشمول ایران کے ساتھ جنگ، کے معاملات میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔














