پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات میں معاملات کافی حد تک طے پاچکے تھے اور معاہدے پر دستخط ہونے والے تھے، تاہم پی ٹی آئی کی ہٹ دھرمی نے ایک نادر موقع ضائع کردیا۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہاکہ خیبر پختونخوا کی قیادت مذاکرات میں شریک نہیں ہوئی اور وزیراعلیٰ کے بیانات نے اپنی ہی مذاکراتی ٹیم کے پاؤں تلے سے زمین کھینچ لی۔
انہوں نے کہاکہ آج کے اہم اجلاس میں اپوزیشن نے حکومت کو بہت سی باتیں سنائیں، لیکن حکومتی مؤقف سنے بغیر ہی ایوان سے چلی گئی۔ پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی بہت سی شکلیں دیکھی ہیں اور اس کی قیادت نے ملک اور جمہوریت کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
’مذاکرات میں معاہدہ طے ہونے کے قریب تھا‘
شیری رحمان نے کہا کہ وہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے تشکیل دی گئی ٹیم کا حصہ تھیں۔ پیپلز پارٹی نے ہی مذاکرات کے لیے مؤقف اختیار کیا اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن سے بات چیت کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے ایجنڈے میں دہشت گردی کا معاملہ سرفہرست تھا اور بات چیت میں کافی حد تک پیش رفت ہوچکی تھی۔ معاہدے پر دستخط ہونے والے تھے، تاہم معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات میں ہونے والی اندرونی گفتگو سامنے نہیں لانا چاہتیں، کیونکہ اس سے فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہوتا ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی قیادت کو مذاکرات میں شریک ہونا چاہیے تھا، لیکن نہ وزیراعلیٰ آئے اور نہ ہی ان کا کوئی نمائندہ مذاکرات میں شریک ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کا مؤقف تھا کہ فریقین کے درمیان اعتماد قائم ہونا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کو بین الاقوامی سفارت کاری کا بھی وسیع تجربہ ہے اور اسی تجربے کی بنیاد پر مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدے انہی فریقین کے درمیان ہوسکتے ہیں جو کچھ لچک دکھانے کے لیے تیار ہوں۔ پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم نے کافی حد تک تعاون کیا، تاہم صوبائی قیادت کے رویے نے معاملات کو نقصان پہنچایا۔
شیری رحمان نے کہا کہ حکومت رات 3 بجے تک پی ٹی آئی کے نمائندوں کی واپسی کا انتظار کرتی رہی، لیکن کوئی واپس نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی صبح کسی بات پر اتفاق کرتی ہے اور شام کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ پاکستان کی سلامتی کے معاملات سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔
’دہشتگردی پوری قوم کے لیے ریڈ لائن ہونی چاہیے‘
شیری رحمان نے کہا کہ دہشت گردی پیپلز پارٹی کے لیے صرف ایک ناسور نہیں بلکہ ریڈ لائن بھی ہے اور پوری قوم کو دہشت گردی کو اپنی ریڈ لائن سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے کو اتنا ہلکا کیوں لیا جارہا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر صوبے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی پولیس کو آگے لارہے ہیں، لیکن خیبر پختونخوا میں ایسا نہیں ہوا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 2 سال کے دوران دہشت گردی میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ یہ صورتحال کسی صورت قابل قبول نہیں کہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان جائیں اور کچھ دیر بعد انہیں بتایا جائے کہ وہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث باہر نہیں نکل سکتیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ ہماری اپنی سرزمین ہے اور یہاں خدمات انجام دینے والے فوجی اور پولیس اہلکار ہمارا فخر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کیا کسی نے ان شہدا کے لواحقین کے آنسو دیکھے ہیں جو اپنے پیاروں کی قربانیوں کے اعتراف میں تمغے وصول کرنے آتے ہیں؟
شیری رحمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا اس وقت جنگ جیسی صورتحال سے دوچار ہے، لیکن اس سنگین معاملے پر بھی سیاست کی جارہی ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ ہمیں اپنی سرزمین واپس چاہیے، کیا آپ کو اپنی سرزمین واپس نہیں چاہیے؟
’وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات پر شدید تنقید‘
شیری رحمان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیراعلیٰ کہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف نہیں لڑیں گے، حالانکہ انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں میں پولیس کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنے کا موقع ملتا ہے اور خیبر پختونخوا حکومت کو اس پر خوش ہونا چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی قیادت کے اس مؤقف نے اپنی ہی مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کو نقصان پہنچایا اور ان کے پاؤں تلے سے زمین کھینچ لی۔
شیری رحمان نے کہاکہ صوبائی قیادت جھنڈا اٹھا کر یہ کہہ رہی ہے کہ وہ دہشتگردوں کی سہولت کار بنی رہے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایک ریاست میں 2 خارجہ پالیسیاں نہیں ہوسکتیں۔ ایسا ممکن نہیں کہ ریاست کی پالیسی کچھ اور ہو اور کسی صوبے کی پالیسی اس سے مختلف ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے معاملے پر کسی قسم کی دو عملی قبول نہیں کی جاسکتی۔
افغانستان اور بھارت سے دہشتگردی کے الزامات
شیری رحمان نے الزام عائد کیا کہ ایک جانب افغانستان اور دوسری جانب بھارت پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں، لیکن تحریک انصاف کی ترجیح صرف اپنے قائد عمران خان کو جیل سے نکالنا دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا تحریک انصاف کے نزدیک ملک کو درپیش دہشت گردی کے خطرات سے زیادہ اہم معاملہ صرف عمران خان کی رہائی ہے؟
شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان کسی کی جاگیر نہیں اور تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو اپنا بھائی قرار دینا کسی صورت درست نہیں۔
انہوں نے کہاکہ سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد قوم کو اپنے معصوم بچوں کی لاشیں اٹھانا پڑیں۔ پاکستان نے بہادری سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور القاعدہ کو یہاں سے نکالا، لیکن اب دہشت گرد دوبارہ واپس آرہے ہیں۔
انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ معرکہ حق میں اپنی شکست برداشت نہیں کرسکے، اس لیے انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کا سہارا لینا شروع کردیا۔
شیری رحمان نے کہاکہ اگر ریاست ہی جلنے لگے تو پھر سیاست کس کام کی رہے گی؟
’پیپلز پارٹی کی قربانیوں کا ذکر‘
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ملک اور جمہوریت کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد بھی بعض لوگوں نے جشن منایا، لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہمیشہ اپنے کارکنوں کو یہی سبق دیا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے اور ریاست ہے تو ہم ہیں۔
انہوں نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب طالبان نے سوات سے پاکستان کا جھنڈا اتارا تو بینظیر بھٹو نے اعلان کیا تھا کہ وہ سوات میں دوبارہ پاکستان کا جھنڈا لہرائیں گی، لیکن اس کے بعد وہ خود شہید ہوگئیں۔
شیری رحمان نے کہا کہ سانحہ کارساز میں بھی پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں اور 27 دسمبر کو بھی پارٹی کو ایک بڑے سانحے کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے سابق صدر آصف علی زرداری کی قید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ وہ قافلہ لے کر جیل گئی تھیں تو آصف زرداری نے انہیں ڈانٹا اور کہا کہ وہ جیل کاٹ لیں گے، لیکن پاکستان کو کوئی آنچ نہیں آنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی آصف علی زرداری کو جیل سے نکالنے کے لیے جیلوں کے باہر مجمعے نہیں لگائے۔
انہوں نے فریال تالپور کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا گیا۔ شیری رحمان کے مطابق تحریک انصاف کے قائد نے بیرون ملک جاکر یہ تک کہا تھا کہ وہ انہیں برف کی سلاخوں پر لٹائیں گے۔
’ہم نے ایمرجنسی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں، پی ٹی آئی نے موقع ضائع کیا‘
شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا نرم گوشہ ہمیشہ جمہوریت کی جانب رہا ہے اور پارٹی نے جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کردار ادا کیا ہے، لیکن بدقسمتی سے ایوانوں کو تماشا بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں ڈالیں اور معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی۔
تاہم ان کے مطابق تحریک انصاف کی ہٹ دھرمی کے باعث بات چیت کا ایک نادر موقع ضائع ہوگیا۔
شیری رحمان نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی سلامتی ہر سیاسی جماعت اور رہنما کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ اگر ریاست محفوظ نہیں ہوگی تو جمہوریت اور سیاست بھی قائم نہیں رہ سکیں گی۔
شیری رحمان نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہاکہ سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ ملک رہے گا تو جمہوریت رہے گی۔














