آبنائے ہرمز کے قریب 2 بحری جہاز ڈوب گئے، جبکہ ایران نے امریکا کے مطالبات تسلیم ہونے تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مسلسل حملوں کے باعث خطے میں سمندری آمدورفت متاثر ہو رہی ہے اور عالمی معیشت پر بھی دباؤ بڑھنے کے خدشات ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق ایک بحری جہاز کو کسی ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسرا سمندری بارودی سرنگ کی زد میں آکر ڈوب گیا۔ ان واقعات کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہازوں کی آمدورفت سست پڑ گئی ہے۔
Iranian Parliament Speaker Mohammad Bagher Ghalibaf has said Tehran will continue to fight until the US accepts its demands, despite insisting it does not seek an endless war.
🔴 Follow our LIVE coverage: https://t.co/UhOyRTDHVt pic.twitter.com/KKvNq5OPMG
— Al Jazeera English (@AJEnglish) October 15, 2026
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران نہ تو غیر معینہ مدت تک جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے اور نہ ہی امریکا کے ساتھ طویل مذاکرات کا خواہش مند ہے، تاہم واشنگٹن کی جانب سے ایرانی مطالبات تسلیم کیے جانے تک لڑائی جاری رہے گی۔
دوسری جانب یمن کے صوبے تعز میں حوثی جنگجوؤں اور حکومتی فورسز کے درمیان بھی شدید لڑائی جاری ہے۔ یمنی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپوں کے دوران 200 سے زائد حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے اہم سمندری راستہ ہے۔ اس علاقے میں جہازوں پر حملوں اور آمدورفت میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کے اعصابی مرکز لارک جزیرے پر امریکی حملہ، محدود کارروائی یا نئی جنگ کا آغاز؟
عالمی مالیاتی فنڈ نے بھی آبنائے ہرمز کی طویل بندش کے امکان کے باعث مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی 2026 کی معاشی ترقی کے اندازوں میں کمی کی ہے، تاہم راستہ دوبارہ کھلنے کی توقع پر 2027 میں معاشی بہتری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔














