پشاور میں نجی سکول کی چھت گرنے کے واقعے کے بعد صوبے بھر کے تمام نجی اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کرنے کا ٹاسک سپیشل برانچ کو دے دیا گیا، جبکہ پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی (پی ایس آر اے) کی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کو بھی مسترد کرتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقات کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا، پولیس نے الگ جبکہ چیف سیکرٹری نے الگ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور اسکول سانحہ: خیبرپختونخوا حکومت کا اہم اقدام، نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظتی جانچ کا فیصلہ
جمعرات کے روز پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی سکول کی چھت گرنے سے 30 سے زائد بچے جاں بحق اور 51 زخمی ہوئے۔ اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق مذکورہ نجی سکول کو حال ہی میں مڈل سکول کے طور پر رجسٹرڈ کیا گیا تھا، تاہم وہاں نویں جماعت کے بچے بھی زیرِ تعلیم تھے۔
خیبر پختونخوا میں کتنے نجی سکولز رجسٹرڈ ہیں اور کہاں کہاں؟
وی نیوز کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق صوبے بھر میں 12 ہزار 503 نجی سکول پی ایس آر اے کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، جن میں سب سے زیادہ 1 ہزار 806 سکول ضلع پشاور میں ہیں۔ اس کے علاوہ نوشہرہ میں 607، ایبٹ آباد میں 785، باجوڑ میں 151، بنوں میں 332، بٹگرام میں 112، بونیر میں 236، چارسدہ میں 542، چترال لوئر میں 73، چترال اپر میں 67، ڈی آئی خان میں 602، دیر لوئر میں 382، دیر اپر میں 146، ہنگو میں 135، ہری پور میں 647، کرک میں 260، خیبر میں 237، کوہاٹ میں 445 اور کوہستان میں 45 سکول رجسٹرڈ ہیں۔ کوہستان اپر میں چھ سکول رجسٹرڈ ہیں، تاہم ان میں سے 3 اسکولوں کی رجسٹریشن معطل بھی کی گئی ہے۔ کولائی پالس میں ایک بھی سکول رجسٹرڈ نہیں ہے۔
ضلع کرم میں 96، لکی مروت میں 236، ملاکنڈ میں 297، مانسہرہ میں 977، مردان میں 967، مہمند میں 53، شمالی وزیرستان میں 91، اورکزئی میں 28، پہاڑ پور میں تین، شانگلہ میں 154، جنوبی وزیرستان لوئر میں 92، جنوبی وزیرستان اپر میں 12، صوابی میں 616، سوات میں 1 ہزار 130، ٹانک میں 125، جبکہ تورغر میں 10 سکول رجسٹرڈ ہیں۔
کیا رجسٹریشن کے وقت عمارتوں کی جانچ ہوتی ہے؟
اتھارٹی کے 2018 میں بنائے گئے قواعد کے تحت نجی سکول کی رجسٹریشن کے وقت ہر ضلع میں قائم ڈسٹرکٹ سکروٹنی کمیٹی عمارت کا معائنہ کرتی ہے، جس میں طلبہ کی حفاظت اور سکیورٹی کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر سکول میں تعلیمی ماحول، سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب سمیت دیگر تمام پہلوؤں کو بھی قانون میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور اسکول سانحہ: زخمی ہونے والے 32 بچوں کی فہرست جاری، ایک بچی کی میت بھی موصول
دستاویزات کے مطابق نجی سکول کا مالک بیانِ حلفی بھی جمع کراتا ہے، جس میں تمام قوانین پر عمل درآمد کی شق شامل ہوتی ہے۔ تاہم بیشتر ایسے سکول بھی ہیں جنہیں رجسٹریشن دی گئی ہے، لیکن پشاور بورڈ نے ان کی عمارتوں کی حالت پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
پی ایس آر اے انکوائری کے بجائے الگ تحقیقات کیوں؟
محکمہ تعلیم نے پی ایس آر اے کو ایک روز میں انکوائری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی، تاہم سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم عنایت وسیم نے وی نیوز کو بتایا کہ چیف سیکرٹری آفس نے اتھارٹی کی انکوائری کے بجائے غیر جانب دارانہ تحقیقات کے احکامات جاری کیے ہیں، کیونکہ اتھارٹی خود رجسٹریشن بھی دیتی ہے اور انکوائری بھی کرتی ہے، جس پر اعتراض کیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے سیکرٹری ٹرانسپورٹ کی سربراہی میں دو رکنی کمیٹی تشکیل دے کر سات روز میں رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کر دی۔
آئی جی پولیس ذوالفقار حمید کے مطابق صوبے بھر کے نجی اسکولوں کا معائنہ کرنے کا ٹاسک سپیشل برانچ کو دے دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی کی سطح پر ایک الگ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکول کے مالک کے خلاف حکومت کی جانب سے ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔ تحقیقات میں یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ آیا محکمہ تعلیم یا کوئی دوسرا فریق اس معاملے میں ملوث ہے اور سکول کو دی گئی رجسٹریشن قانون کے مطابق ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور اسکول حادثہ: 110 بچے زیرِ تعلیم تھے، مالک حراست میں، ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج ہوگا، سی سی پی او
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے مطابق اتھارٹی کے پاس پہلے کارروائی کرنے کا اختیار تھا، تاہم سابقہ حکومت نے ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے یہ اختیار واپس لے لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس دور میں یہ اختیار واپس لیا گیا، اس وقت کے وزیراعلیٰ، سپیکر اور متعلقہ وزیر کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔













