بلوچستان میں تعلیمی سہولیات کی کمی اور اسکولوں سے باہر بچوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے صوبائی کابینہ نے سرکاری اسکولوں میں ڈبل شفٹ شروع کرنے کی پالیسی منظور کرلی جبکہ 10 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 16 لاکھ بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کے لیے غیر رسمی تعلیم کا نیا پروگرام بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کابینہ کے اہم فیصلے، 16 لاکھ بچوں کو تعلیم کے دھارے میں لانے کا ہدف
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت 9 اکتوبر کو ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں سرکاری اسکولوں میں دوہری تدریسی شفٹ اور بلوچستان غیر رسمی تعلیم ایکٹ 2025 کی منظوری دی گئی۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق ڈبل شفٹ پالیسی کے تحت موجودہ سرکاری اسکولوں کی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر انداز میں استعمال کرتے ہوئے شام کے اوقات میں تدریسی سرگرمیاں شروع کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد موجودہ اسکولوں میں مزید بچوں کے داخلے کی گنجائش پیدا کرنا اور جہاں ممکن ہو نئے اسکولوں کی فوری تعمیر کے بجائے دستیاب وسائل سے زیادہ مؤثر انداز میں فائدہ اٹھانا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں ایک اور اہم فیصلے کے تحت حکومت نے 10 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 16 لاکھ بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے ان بچوں کو غیر رسمی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں گے جو مختلف وجوہات کی بنا پر روایتی اسکولوں میں داخل نہیں ہو سکے یا تعلیم سے محروم رہ گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: بلوچستان میں تعلیمی اصلاحات، حکومت 2 سال کے عرصے میں تعلیمی شعبے میں کیا بہتری لا سکی؟
کابینہ نے بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے انتظامی بورڈ کی تشکیل کی منظوری بھی دی، جس کا مقصد فاؤنڈیشن کے انتظامی اور تعلیمی امور کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا مؤقف ہے کہ بلوچستان میں ڈبل شفٹ پالیسی اور غیر رسمی تعلیم کے پروگرام کی منظوری ایسے وقت میں اہمیت رکھتی ہے جب صوبے کو تعلیمی رسائی بڑھانے اور اسکولوں سے باہر بچوں کو تعلیم کی طرف واپس لانے جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ موجودہ عمارتوں میں دوسری شفٹ شروع کرنے سے نئے اسکولوں کی تعمیر کے انتظار کے بغیر اضافی بچوں کو جگہ مل سکتی ہے تاہم اس منصوبے کی کامیابی کے لیے اساتذہ کی دستیابی، مناسب بجٹ، تعلیمی معیار اور نگرانی کو یقینی بنانا ضروری ہوگا۔
تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اسی طرح 16 لاکھ بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کا ہدف صرف داخلوں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ بچوں کی مسلسل حاضری، تعلیم مکمل کرنے اور سیکھنے کے نتائج پر بھی توجہ دینی ہوگی۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا مجموعی تعلیمی بجٹ 2311 ارب روپے مقرر، بلوچستان فی کس بجٹ میں پنجاب سے تقریباً دُگنا آگے
کابینہ کی منظوری ایک اہم پالیسی قدم ہے لیکن اصل امتحان اس پر بروقت عمل درآمد ہے۔ فی الحال حکومتی اعلامیے میں ڈبل شفٹ شروع کرنے کی تاریخ، منتخب اسکولوں کی فہرست اور اساتذہ کی تعیناتی سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔














