کراچی میں پاکستانی نژاد کینیڈین میاں بیوی کی پراسرار موت، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشافات

جمعہ 16 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے علاقے نارتھ کراچی کے سیکٹر سی 11 کے ایک مکان سے پاکستانی نژاد کینیڈین میاں بیوی کی لاشیں برآمد ہونے کے واقعے نے شہر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

کراچی پولیس کے کرائم سین یونٹ کی جانب سے جائے وقوعہ کی سائنسی اور فورینزک تحقیقات جاری ہیں، جبکہ پولیس سرجن کراچی نے مقتولین کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ایک خاندان کے 5 افراد کی ہلاکت، پوسٹ مارٹم میں وجہ واضح نہ ہوسکی

پولیس نے مکان کو سیل کر رکھا ہے، گھر کے سامنے موجود ریڑھی بانوں کے مطابق، جاں بحق یامین کے بھائی نے جب گھر کھولا تو میاں بیوی کی ہلاکت کا علم ہوا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دونوں میاں بیوی اچھے اخلاق کے مالک تھے۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کی تفصیلات

پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق، 65 سے 70 سال کے درمیان عمر کے مقتول محمد یامین اور ان کی اہلیہ نفیس اختر کے سروں پر کسی سخت اور کند آلے سے متعدد وار کیے گئے، جس کے نتیجے میں انہیں شدید زخم آئے۔

مقتولین کو قتل سے قبل کوئی نشہ آور شے یا زہر دیے جانے کے امکان کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے، اس سلسلے میں جسمانی نمونے حاصل کرکے کیمیائی تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق، لیبارٹری رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی اس پہلو سے متعلق صورت حال واضح ہو سکے گی۔

ڈکیتی کے شواہد نہیں ملے

ایس ایس پی ضلع وسطی ڈاکٹر محمد عمران خان اور مقامی پولیس کے مطابق، ابتدائی تفتیش کے دوران گھر میں لوٹ مار یا ڈکیتی کے بظاہر کوئی شواہد نہیں ملے۔

گھر میں موجود موبائل فونز، قیمتی اشیا اور دیگر سامان بھی اپنی جگہ موجود پایا گیا ہے۔ پولیس ان شواہد کی روشنی میں ڈکیتی کے امکان سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

خاندانی پس منظر اور ممکنہ محرکات

ابتدائی تحقیقات کے مطابق، جاں بحق جوڑے کے تمام بچے بیرون ملک مقیم ہیں، جبکہ میاں بیوی کچھ عرصہ قبل ہی کینیڈا سے پاکستان آئے تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ وہ نارتھ کراچی میں واقع اپنا مکان فروخت کرکے مستقل طور پر کینیڈا منتقل ہونا چاہتے تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے گھر خالی کروا کر وہاں رنگ و روغن اور مرمت کا کام بھی شروع کروا رکھا تھا۔

اعلیٰ حکام کا نوٹس، تحقیقات کا دائرہ وسیع

واقعے کی سنگینی کے پیش نظر صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ضلع وسطی سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے اور ملزمان کی جلد گرفتاری کے لیے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

ایس ڈی پی او خواجہ اجمیر نگری اور ایس ایچ او تھانہ سرسید کی نگرانی میں پولیس کی مختلف ٹیمیں تحقیقات کر رہی ہیں، علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کرکے مشکوک افراد کی آمدورفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی میں ڈیڑھ سالہ بچی کی موت، 17 سالہ رشتہ دار گرفتار

گھر میں تعمیر و مرمت کے کام میں مصروف مزدوروں، رنگ سازوں اور دیگر متعلقہ افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، پولیس ذاتی دشمنی، مکان کی فروخت سے متعلق مالی معاملات اور رشتہ داروں یا جاننے والوں کے ممکنہ کردار سمیت مختلف پہلوؤں پر شواہد جمع کر رہی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق، آئی جی سندھ آفس کی جانب سے فی الحال میڈیا کو ویڈیو بیان دینے یا مؤقف جاری کرنے سے روکا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے تجزیے سمیت دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp