گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی گزشتہ روز کی تقریر سے مایوسی ہوئی، وہ سینئر سیاستدان ہیں، ان سے ایسی گفتگو کی توقع نہیں تھی۔
’مولانا فضل الرحمان کہتے تھے کہ ان کے بغیر کوئی حکومت نہ بنتی ہے اور نہ چلتی ہے، لیکن خیبرپختونخوا میں ان کے بغیر بھی حکومت بنی ہے اور چلے گی بھی۔‘
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر راج پورے صوبے میں نافذ ہوگا، ایمرجنسی شاید کچھ اضلاع میں لگے، فیصل کریم کنڈی
مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں گھوم پھر نہیں سکتے اور صوبائی حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔
’۔۔۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ صوبائی حکومت امن کے قیام کے لیے کوششیں نہیں کر رہی۔‘
‼️‼️‼️‼️جن لوگوں نے صوبے کو تباہ کیا انکا Chapter Close ہو چکا ہے، اب جو صوبے کے امن، ترقی و خوشحالی کے لیے کام کرے گا ہم اسکے ساتھ چلیں گے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی pic.twitter.com/WrNG7FGQ04
— Journalist Unsa Fatima (@UnsaFatima_) October 17, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا اور سیکیورٹی اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی سابق حکومت کے فیصلے اسلام آباد کے بجائے کابل اور قندھار سے آتے تھے، سابق حکمرانوں کے بعض مفرور عناصر سرحد پار بیٹھ کر لوگوں کو اکسا رہے ہیں۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے سوال کیا کہ لکی مروت، ٹانک اور بنوں میں کون سے پہاڑ اور معدنی وسائل موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے بعد عباس احسن ایڈیشنل آئی جی قبائلی اضلاع تعینات
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے کے معدنی وسائل کو بروئے کار لانا ضروری ہے، غیر ملکی کمپنیاں، پاکستانی کمپنیاں اور خیبرپختونخوا حکومت مشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کر سکتی ہیں، تاہم صوبے میں امن کے قیام کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا، البتہ دیگر معاملات پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں ضرورت ہوگی، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جائیں گے، سیکیورٹی اداروں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی ضروریات کا جائزہ لیا جائے گا اور جہاں انہیں تعاون درکار ہوگا، فراہم کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن کے لیے تمام اداروں اور پلیٹ فارمز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں: اب ہماری پالیسیز اسلام آباد سے آئیں گی اور ہم من و عن عمل کریں گے، فیصل کریم کنڈی
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ماضی میں اسلام آباد اور خیبرپختونخوا سمیت مختلف صوبوں اور علاقوں کے درمیان فاصلے تھے، لیکن اب ہم ایک اکائی ہیں اور مل کر کام کریں گے۔ دیگر صوبوں
کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ خیبرپختونخوا کے مثبت تجربات بھی دوسرے صوبوں کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔
گورنر نے مزید کہا کہ صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ چلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے صوبے کو تباہ کیا، ان کا باب ختم ہو چکا ہے۔












