اسلام آباد کی ہونہار گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کے کیس میں گرفتار نوسرباز ایجنٹ نعمان پر فراڈ کا ایک اور سنگین الزام سامنے آ گیا۔
مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے محمدسلطان نامی شہری نے الزام عائد کیا ہے کہ نعمان اور اس کے مبینہ ساتھیوں نے حساس ادارے میں ملازمتیں دلوانے کے عوض ان سے 85 لاکھ روپے ہتھیا لیے۔ متاثرہ شہری محمد سلطان نے وی نیوز کو بتایا کہ نعمان کے بھائی ملک وقاص اور بھتیجےافنان اور سعد نے مبینہ طور پر دعویٰ کیا کہ نعمان اسلام آباد میں ایک حساس ادارے کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہے اور وہ خاندان کے افراد کو سیکیورٹی ادارے میں ملازمتیں دلوا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لائبہ اعجاز کیس: امریکی یونیورسٹی میں داخلے کے نام پر کروڑوں کا فراڈ، ملزم گرفتار
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں 10 تقرری نامے دیے گئے، میڈیکل ٹیسٹ بھی کروائے گئے اور سیکیورٹی کے نام پر 85 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ مبینہ طور پر انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ اکیڈمی میں شمولیت کے بعد رقم واپس کر دی جائے گی، تاہم بعد میں تمام تمام تقرری نامے جعلی نکلے اور جب رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تو ٹال مٹول سے کام لیا جانے لگا۔
محمد سلطان کے مطابق اس معاملے پر مانسہرہ میں ایف آئی آر بھی درج کروائی گئی، جبکہ چند روز قبل انہوں نے اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں بھی درخواست جمع کرائی اور انصاف کی اپیل کی۔متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی رقم واپس دلائی جائے ۔
درخواست گزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر انہیں بروقت انصاف مل جاتا تو شاید لائبہ اعجاز کی موت کا سانحہ پیش نہ آتا۔
ہم سوال یہ ہے کہ حساس ادارے کے نام پر مبینہ فراڈ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کہاں تک پہنچی، اور متاثرہ خاندان کو انصاف کب ملے گا؟












