غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات سے سیاسی ہم آہنگی تک، پی ٹی آئی اور جے یو آئی کی قلابازی

ہفتہ 17 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

2021  میں پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے پر الزامات کا تبادلہ جاری تھا، تاہم آج دونوں جماعتیں ایک ہی سیاسی صف میں کھڑی نظر آتی ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق جنوری 2021 میں پی ٹی آئی نے جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر رہنماؤں کو مبینہ طور پر لیبیا اور عراق سے فنڈز ملنے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا۔ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی فرخ حبیب نے درخواست میں جے یو آئی ف کے سابق ترجمان حافظ حسین احمد کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا کی گورنر شپ مولانا فضل الرحمان کو دینا وزیراعظم کی خواہش تھی، خود ان کا تقاضا نہیں تھا، رانا ثنا اللہ

دوسری جانب اسی عرصے میں پی ٹی آئی کے بانی ارکان میں شامل اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں اپنی ہی جماعت کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس میں کارروائی شفاف بنانے اور مالی دستاویزات فراہم کرنے کی درخواست دائر کر رکھی تھی۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کیس کی براہِ راست کوریج کی پیشکش کا حوالہ بھی دیا تھا۔

یوں جنوری 2021 میں پی ٹی آئی جے یو آئی ف کی مبینہ غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی تھی، جبکہ خود پی ٹی آئی کو اپنے سابق رہنما کی جانب سے غیر ملکی فنڈنگ کے مقدمے کا سامنا تھا۔

آج دونوں جماعتوں کے ایک سیاسی موقف پر اکٹھا ہونے کے تناظر میں ماضی کے یہ واقعات سیاسی حالات میں آنے والی تبدیلی کو نمایاں کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp