مہنگائی کے ستائے شہریوں کے لیے آٹے کی خریداری بھی مشکل ہوگئی ہے۔ کوئٹہ میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں مزید 100 روپے کا اضافہ ہوگیا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 3 ہزار 200 روپے سے بڑھ کر 3 ہزار 300 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب مارکیٹ میں آٹا 165 روپے فی کلو فروخت ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی سرکاری قیمت 2 ہزار 640 روپے مقرر کر رکھی ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین بدرالدین نے کہاکہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والی گندم ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے، تاہم زمینی حقائق اس دعوے کے برعکس ہیں۔
مزید پڑھیں: گندم کی فی من قیمت میں 2 ہزار روپے کی کمی، اب آٹا اور روٹی کتنی سستی ہوگی؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک میں ضرورت کے مطابق گندم پیدا ہوئی ہے تو پھر اسے درآمد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟ حکومت کو گندم کی پیداوار میں کمی کی حقیقت تسلیم کرکے اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔
بدرالدین نے کہا کہ گزشتہ 2 سال کے دوران گندم کاشت کرنے والے کسانوں کو مناسب سہولیات اور معاشی تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث ان کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گندم کی بہتر فصل حاصل کرنے کے لیے معیاری بیج، کھاد اور زرعی ادویات کا استعمال ضروری ہے، تاہم بڑھتے ہوئے اخراجات برداشت نہ کر پانے کے باعث کاشت کار مطلوبہ معیار اور مقدار میں پیداوار حاصل نہیں کر پا رہے۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں بھی کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کی مجموعی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے عہدیدار کے مطابق بلوچستان میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ نقل و حمل میں حائل رکاوٹیں بھی ہیں۔ مختلف چیک پوسٹوں پر ٹرکوں کو روکے جانے، کسٹمز کی کارروائیوں اور رات کے وقت سفر میں پیش آنے والی مشکلات کے باعث گندم کی ترسیل تاخیر کا شکار ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جو سفر عموماً 24 گھنٹوں میں مکمل ہونا چاہیے، وہ بعض اوقات 48 سے 72 گھنٹے تک طویل ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ گاڑیوں کی آمدورفت میں تاخیر، اضافی اخراجات اور راستوں میں پیش آنے والی مشکلات کا اثر بالآخر آٹے کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
ان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کے ساتھ نقل و حمل کے مسائل اور راستوں میں مبینہ غیر قانونی وصولیاں بھی بلوچستان میں مہنگائی میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔
انہوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیاکہ گندم اور آٹے کی ترسیل میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں اور گاڑیوں کو بلاوجہ روکنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
بدرالدین نے کہا کہ تقریباً 2 ماہ قبل آٹے کی قیمت 130 روپے فی کلو کے قریب تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 165 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
ان کے مطابق کوئٹہ کی مارکیٹ میں بھی بعض مقامات پر آٹا 165 روپے فی کلو فروخت ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گندم کی مجموعی ضروریات پوری کرنے کے لیے طلب اور رسد کا درست تخمینہ لگانا بھی ضروری ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ کے رہائشی مجتبیٰ نعیم نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آٹا مسلسل مہنگا ہو رہا ہے اور اب عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آٹا ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے اس کی قیمت میں ہونے والے اضافے کا براہ راست اثر غریب اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔
مزید پڑھیں: ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن، ہزاروں میٹرک ٹن چینی، کھاد اور آٹا بر آمد
مجتبیٰ نعیم نے کہاکہ عوام ایک جانب مہنگا پیٹرول خریدنے پر مجبور ہیں تو دوسری جانب آٹا، سبزیاں، گوشت اور دودھ جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ بھی ان کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث کم آمدنی والے خاندانوں کی قوت خرید مزید متاثر ہورہی ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانے کی مؤثر پالیسی مرتب کی جائے۔










