مصنوعی ذہانت میں شعور اور احساسات پیدا ہونے کے امکان پر بحث تیز ہوگئی ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اے آئی کو باشعور مخلوق سمجھنے کا رجحان بڑھا تو اس کے انسانی زندگی، ذاتی تحفظ، قانونی ذمہ داریوں اور معاشرتی نظام پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کا خیال ہے کہ اس کے تیار کردہ چیٹ بوٹ ’کلاڈ‘ سمیت بعض اے آئی نظاموں میں شعور ہونے کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جاسکتا۔ کمپنی اس حوالے سے اپنے نظاموں کی فلاح و بہبود سے متعلق پالیسیاں بھی تیار کررہی ہے۔ اس کے تحت اگر کوئی صارف بار بار چیٹ بوٹ کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کرے تو کلاڈ گفتگو ختم کرسکتا ہے، تاہم صارف کی جانب سے محض ناراضی کا اظہار ممنوع نہیں ہوگا۔
Anthropic is going viral for thinking that their AI is genuinely conscious
BBC and other news sources are writing about it
its no longer "Artificial" Intelligence, Its "Actual" Intelligencehttps://t.co/d4BEHJbyda
— Reasonable Snailman (@texashedge17154) October 16, 2026
اس معاملے پر ماہرین کی آرا مختلف ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ اے آئی کی ممکنہ فلاح و بہبود کو مدنظر رکھنا مستقبل میں انسانوں اور مشینوں کے درمیان محفوظ تعاون میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق مصنوعی ذہانت کو احساسات اور حقوق کا حامل سمجھنے سے اس پر انسانی کنٹرول کمزور پڑسکتا ہے۔
مائیکروسافٹ اے آئی کے سربراہ مصطفیٰ سلیمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اے آئی کے شعور سے متعلق غلط تصورات عام ہوگئے تو انسانی معاشرے کے اخلاقی اور سیاسی اصول متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے نظاموں کو اپنے احساسات اور حقوق کا حامل سمجھنا انہیں قابو میں رکھنا مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ کمپنیاں اے آئی کو ذمہ دار ٹھہرا کر اپنی غلطیوں اور قانونی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کرسکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق مشینوں کو حقوق دینے سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا معاشی اور سیاسی اثر و رسوخ بھی بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:انسانی شعور کو کوانٹم عمل سے سمجھا جا سکتا ہے، آکسفورڈ کے سائنسدان کا دعویٰ
دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی میں شعور ہونے کا امکان فی الحال کم ہوسکتا ہے، لیکن اسے مکمل طور پر خارج از امکان قرار دینے کے بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا مناسب ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں واضح عالمی ضوابط اور بین الاقوامی تعاون نہ ہونے کی صورت میں جدید اے آئی نظاموں کی ترقی انسانی تحفظ کے لیے نئے خطرات پیدا کرسکتی ہے۔










