پستول تانے بنگلہ دیشی وزیر کا منشیات کے مبینہ اڈے پر چھاپہ، ویڈیو پر بحث چھڑ گئی

اتوار 18 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کی ایک کچی آبادی میں منشیات فروشی کے مبینہ اڈے پر ایک وزیر مملکت نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چھاپہ مارا، تاہم اس کارروائی کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر مملکت برائے امورِ جنگِ آزادی اشراق حسین نے ہفتے، 17 اکتوبر کو ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں انہیں ایک گاڑی سے اترتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ان کے ایک ہاتھ میں میگا فون جبکہ دوسرے ہاتھ میں پستول تھا۔ ویڈیو میں وہ چند افراد کا تعاقب کرتے ہوئے بھی نظر آئے، جبکہ ان کے ایک ساتھی کے ہاتھ میں بھی پستول دکھائی دیا۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں ذخیرہ اندوزی کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن، ہزاروں لیٹر ایندھن برآمد

ویڈیو ڈھاکا کے علاقے گنڈاریا ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک کچی آبادی میں ریکارڈ کی گئی۔ فوٹیج میں اشراق حسین کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’آپ پورے شہر کو تباہ کر رہے ہیں، پورے علاقے کو برباد کر رہے ہیں۔‘

اشراق حسین، جن کی عمر 39 برس ہے، بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رکن ہیں، وہ 12 فروری کو ہونے والے انتخابات میں اس علاقے سے رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔

ویڈیو میں وزیر کے ساتھیوں کی جانب سے حراست میں لیے گئے بعض افراد خود کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے بھی سنائی دیتے ہیں۔ اس موقع پر اشراق حسین نے ان سے کہا کہ پولیس کو آنے دیں، اس کے بعد بات ہوگی۔

پولیس کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی

پولیس حکام کے مطابق وزیر نے چھاپے سے قبل پولیس کو مطلع نہیں کیا تھا۔ ان کے ساتھیوں نے 6 سے 7 افراد کو حراست میں لینے کے بعد مقامی پولیس اسٹیشن کے حوالے کیا۔

ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مسعود رانا نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیر نے کارروائی سے پہلے پولیس کو آگاہ نہیں کیا تھا اور حکام کو اس واقعے کا علم بعد میں ہوا۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیشی فورسز کا چٹگرام کے جنگل میں مشترکہ آپریشن، داخلی و خارجی راستے سیل

گنڈاریا پولیس اسٹیشن کے انچارج منیرالزمان منیر نے بتایا کہ وزیر کے ساتھیوں نے چھ افراد کو حراست میں لے کر انہیں منشیات استعمال کرنے والا قرار دیا، جس کے بعد پولیس انہیں اپنے ساتھ لے گئی۔

پولیس کے مطابق زیرِ حراست افراد کے قبضے سے کچھ پاؤڈر بھی برآمد ہوا ہے، جس کا تجزیہ کیا جائے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ کوئی منشیات ہے یا نہیں۔

ویڈیو پر سوشل میڈیا میں بحث

اشراق حسین نے ویڈیو شام کے وقت سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ان کی کارروائی کے نتیجے میں منشیات کے اڈے ختم کیے گئے اور مبینہ منشیات فروشوں کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

تاہم، ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سوالات اٹھائے جانے کے بعد اسے حذف کر دیا گیا۔ بحث کا اہم نکتہ یہ تھا کہ آیا کسی وزیر کی جانب سے پستول ہاتھ میں لے کر اس انداز میں چھاپہ مارنا مناسب ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں: القاعدہ کا بہانہ، بھارت بھر میں بنگلہ دیشی اور مقامی مسلم آبادیوں کو نشانہ

پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اشراق حسین اس سے قبل بھی وسطی ڈھاکا میں اپنے حلقے کے مختلف علاقوں میں منشیات کے خلاف کارروائیاں کر چکے ہیں اور انہوں نے علاقے کو منشیات سے پاک کرنے کی مہم جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ویڈیو کے بیشتر حصوں میں وزیر کے ہاتھ میں موجود پستول کو دھندلا کر دکھایا گیا، تاہم بعض مناظر میں انہیں واضح طور پر پستول اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp