مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں طیبہ میں نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے یورپی سفارت کاروں کے ایک قافلے پر حملہ کردیا، جس کی بیلجیئم اور اسرائیلی فوج نے مذمت کی ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق بیلجیئم، فرانس، پولینڈ اور کیتھولک چرچ کے نمائندوں پر مشتمل وفد فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے حملوں اور زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے علاقے میں موجود تھا۔
BREAKING: Masked Israeli "settlers" attacked a convoy of European diplomats from France, Belgium and Poland during an olive harvest visit to the Christian Palestinian village of Taybeh, near Ramallah.
Seven settlers on ATVs surrounded the vehicles, demanded IDs, threw stones and… pic.twitter.com/3NYbLBY1dv
— Clash Report (@clashreport) October 17, 2026
بیلجیئم کے حکام کے مطابق حملے میں اس کے قونصل خانے کی گاڑی کا شیشہ توڑ دیا گیا، جب کہ فرانس کے ایک میئر برنارڈ بودو کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ میئر کے مطابق حملہ آوروں نے انہیں لاتیں ماریں اور لوہے کی سلاخوں سے تشدد کیا۔
بیلجیئم کے وزیر خارجہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی فوج نے بھی واقعے کو سنگین تشدد قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فلسطینی تاریخ پر بچوں کی کتاب کی اشاعت پینگوئن رینڈم ہاؤس نے روک دی
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے تک محتاط رہنے پر زور دیا اور کہا کہ حکام حملے کی تحقیقات کررہے ہیں۔











