حوثی باغیوں کا فتنہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خطرہ

پیر 19 اکتوبر 2026
author image

عبدالرحمان حیات

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں علاقائی تنازعات، بیرونی مداخلت اور بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کے امن واستحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس صورتحال میں یمن کی حوثی باغیوں کی مسلح کارروائیاں ایک سنگین چیلنج بن کر سامنے آئی ہیں۔ سعودی عرب کے خلاف حملے، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں اور علاقائی تنازعات میں مسلسل مداخلت نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور مشترکہ مفادات کے لیے بھی خطرات پیدا کررہی ہیں۔

یمن گزشتہ کئی برسوں سے خانہ جنگی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ حوثی باغیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کیا اور بعد ازاں ملک کے بڑے حصے پر اپنا کنٹرول قائم کرلیا۔ اس پیشرفت نے یمن کو ایک طویل اور تباہ کن جنگ میں دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد انسانی بحران سے متاثر ہوئے۔ حوثی باغیوں کو ایران کی جانب سے سیاسی اور عسکری حمایت حاصل رہی ہے، جبکہ ان کے مخالفین انہیں علاقائی طاقتوں کے مفادات کے لیے سرگرم ایک مسلح گروہ قرار دیتے ہیں۔

حوثی باغیوں کی سرگرمیوں کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان کی کارروائیاں اب یمن کی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں۔ سعودی عرب کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کے علاوہ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے سے بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ یہ سمندری راستے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان تجارت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان میں عدم تحفظ عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں، بحری انشورنس اور ضروری اشیا کی فراہمی کو متاثر کر سکتا ہے۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ سعودی عرب اسلامی دنیا میں غیر معمولی مذہبی اور سیاسی اہمیت رکھتا ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں واقع حرمین شریفین دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدت اور روحانی وابستگی کا مرکز ہیں۔ سعودی عرب ان مقدس مقامات کی حفاظت، حج وعمرہ کے انتظامات اور لاکھوں زائرین کی سلامتی کی ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ ایسے میں سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات صرف ایک ملک کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔

سعودی عرب نے گزشتہ برسوں میں یمن کے بحران کے حل کے لیے فوجی اقدامات کے ساتھ سیاسی مذاکرات، جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کی بھی حمایت کی ہے۔ ریاض کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور سیاسی تصفیے کی کوششیں اس بات کی اہمیت اجاگر کرتی ہیں کہ یمن میں پائیدار امن محض عسکری طاقت سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق حملے بند کریں، بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں اور یمنی عوام کے مفادات کو علاقائی رقابتوں پر ترجیح دیں۔

حوثی باغیوں کی کارروائیوں کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ انہوں نے فلسطینی عوام کے مصائب سے عالمی توجہ ہٹانے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ غزہ میں بے گناہ شہریوں کی شہادتیں، تباہ شدہ بستیاں اور انسانی بحران عالمی برادری کی فوری توجہ کے مستحق ہیں۔ لیکن بحیرۂ احمر میں حملوں اور علاقائی فوجی کشیدگی نے بین الاقوامی سفارت کاری کو نئے محاذوں میں الجھا دیا ہے۔ فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ان کے حقوق کے لیے مؤثر سفارتی کوششیں کی جائیں، نہ کہ ایسی عسکری کارروائیاں اختیار کی جائیں جن سے مزید مسلمان ممالک جنگ کی لپیٹ میں آ جائیں۔

اسلامی تاریخ میں داخلی انتشار اور باہمی تصادم نے ہمیشہ امت کو کمزور کیا ہے۔ آج بھی مذہبی نعروں کے ذریعے مسلح کارروائیوں کو جائز قرار دینے اور مسلمان معاشروں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کا رجحان نہایت خطرناک ہے۔ بعض ناقدین حوثی باغیوں کی اس طرزِ سیاست کو خوارج کے فتنے سے تشبیہ دیتے ہیں، تاہم موجودہ بحران کا بنیادی مسئلہ مذہبی اختلاف نہیں بلکہ مسلح بغاوت، علاقائی مداخلت اور سیاسی تنازعات کا عسکری حل تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ امتِ مسلمہ کو فرقہ وارانہ تقسیم کے بجائے مشترکہ سلامتی اور باہمی احترام کی بنیاد پر متحد ہونا چاہیے۔

اسی پس منظر میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ تینوں ممالک اسلامی دنیا میں نمایاں سیاسی، عسکری اور سفارتی حیثیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کی اقتصادی اور مذہبی اہمیت، پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور ترکیہ کی عسکری و صنعتی استعداد مشترکہ سلامتی کے لیے اہم امکانات فراہم کرتی ہیں۔ ان ممالک کے درمیان تعاون کا مقصد کسی دوسرے اسلامی ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ بیرونی خطرات سے تحفظ، دفاعی استعداد میں اضافہ اور علاقائی استحکام ہونا چاہیے۔

مکہ دفاعی معاہدہ اسی تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے تصور کو ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس نوعیت کا تعاون خطے میں دفاعی توازن مضبوط بنانے اور ممکنہ جارحیت کی حوصلہ شکنی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کی حقیقی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مشترکہ دفاع کے ساتھ ساتھ سفارتی رابطوں، بحرانوں کے پرامن حل اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کو بھی ترجیح دیں۔

پاکستان کے لیے یہ صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اسلام آباد سعودی عرب کے ساتھ اپنے تاریخی اور دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور اسلامی ممالک کے ساتھ دیرینہ روابط اسے علاقائی سلامتی میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوط شراکت داری برقرار رکھتے ہوے ایران سمیت دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ سفارتی روابط بھی جاری رکھے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سیاسی یا عسکری مفادات تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہری مذہبی، تاریخی اور ثقافتی وابستگی بھی موجود ہے۔ پاکستانی عوام حرمین شریفین کے تحفظ کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کے معاملے میں پاکستان کا تعاون دونوں ممالک کے دیرینہ اعتماد اور مشترکہ مفادات کی عکاسی کرتا ہے۔

اس تمام صورتحال میں ایران اور دیگر علاقائی طاقتوں کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ یمن کے تنازعے میں بیرونی حمایت اور مسلح گروہوں کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششیں علاقائی عدم استحکام کو مزید گہرا کر سکتی ہیں۔ ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ممالک یمن کی خودمختاری کا احترام کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو سعودی عرب، خلیجی ممالک یا بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بنیں۔

آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت اتحاد، سیاسی بصیرت اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس کی ہے۔ اسلامی ممالک کے عوام کو سعودی عرب کی سلامتی، حرمین شریفین کے احترام اور خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ یمنی عوام کے انسانی حقوق، فلسطینیوں کے جائز مطالبات اور تمام مسلمان معاشروں کی سلامتی کو یکساں اہمیت دینا بھی ضروری ہے۔

حوثی باغیوں کی مسلح کارروائیوں کا مستقل حل مزید جنگ نہیں بلکہ حملوں کا خاتمہ، سیاسی مذاکرات اور یمن میں ایک جامع امن عمل ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا بڑھتا ہوا تعاون اس وقت حقیقی معنوں میں کامیاب ہوگا جب وہ اسلامی دنیا کو نئی جنگوں سے بچانے، مشترکہ سلامتی مضبوط بنانے اور امتِ مسلمہ کو تقسیم کے بجائے اتحاد کی طرف لے جانے میں مؤثر کردار ادا کرے۔ یہی حکمت عملی حرمین شریفین کے تحفظ، علاقائی استحکام اور اسلامی دنیا کے محفوظ مستقبل کی بہترین ضمانت بن سکتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبدالرحمان حیات پاکستان میں مقیم سینیئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ہیں، جو عرب میڈیا سے وابستہ ہیں اور پاکستان و مشرق وسطیٰ کے سیاسی و سفارتی امور پر نظر رکھتے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp