وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 37واں اجلاس شروع ہوگیا، جس میں کابینہ کی تاریخ کا طویل ترین 216 نکاتی ایجنڈا پیش کردیا گیا۔
مزید پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لائیواسٹاک کارڈ فیز 2 کا افتتاح کر دیا
اجلاس میں صوبائی وزرا، وزیراعلیٰ کے مشیران، معاونین خصوصی اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہیں۔ اجلاس میں مختلف محکموں کی سمریوں اور اہم انتظامی و مالی امور پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ایجنڈے میں نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا کے بورڈ آف گورنرز کو اعزازیہ دینے اور نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ لاہور کے ڈین کے معاوضے پر نظرثانی کی تجاویز شامل ہیں۔
چیف منسٹر پنجاب گرین ٹریکٹر پروگرام کے تحت زیادہ اور کم طاقت والے ٹریکٹرز پر سبسڈی کی منظوری جبکہ زرعی شعبے میں تبدیلی کے منصوبے کے لیے سبسڈی کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔
اجلاس میں راولپنڈی نارتھ فاریسٹ ڈویژن کے فائر فائٹر کے اہلخانہ کو مالی معاوضہ دینے، ضلع مری کو آفت زدہ قرار دینے اور اضافی گرانٹ کی منظوری سے متعلق امور بھی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ مری میں خطرناک عمارتوں سے متعلق اقدامات، متاثرہ عمارتوں میں رہائش پذیر افراد کی منتقلی اور عمارتوں کے انہدام کے معاملات پر بھی غور کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف مری پہنچ گئیں، اہم اجلاس اور ملاقاتیں متوقع
پنجاب میں سرکاری ملازمین کے لیے ہاؤس بلڈنگ ایڈوانس، مختلف علاقوں میں 132 کے وی ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر، گرانٹ اِن ایڈ کمیٹی کی سفارشات اور پنجاب پولیس میں سیکنڈمنٹ پر تعینات ایس ایس جی افسران کے الاؤنسز سے متعلق معاملات بھی اجلاس میں زیر غور آئیں گے۔










