اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بیرونِ ملک اور ملک کے اندر تعلیمی پروگراموں، وظائف اور ڈیپوٹیشن سے واپس آنے والے سرکاری افسران کے لیے ڈگریوں کی تصدیق، مالی ضمانتوں کی نگرانی اور مقررہ مدت میں ڈیوٹی پر واپسی سے متعلق سخت ضوابط نافذ کردیے۔
مزید پڑھیں:بلوچستان کے سرکاری افسران زکوٰۃ کی رقم ڈکار گئے، آڈٹ جنرل کی رپورٹ میں انکشاف
انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق نئے طریقۂ کار کے تحت مطالعاتی رخصت یا غیر ملکی وظائف سے واپس آنے والے افسران کو جوائننگ رپورٹ کے ساتھ ڈگری سرٹیفکیٹ کی تصدیق شدہ نقل یا سرکاری تعلیمی ٹرانسکرپٹ جمع کرانا ہوگا۔ معقول اور قابلِ تصدیق وجہ کے بغیر مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کرنے والے افسر کو ڈیوٹی سے غیر حاضر تصور کیا جاسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر کسی غیر ملکی جامعہ کی جانب سے ڈگری جاری کرنے میں تاخیر ہو تو متعلقہ افسر کو ادارے کی ایسی مستند دستاویز پیش کرنا ہوگی جس سے اس کی تعلیمی حیثیت اور ڈگری کے اجرا میں تاخیر کی وجہ کی تصدیق ہوسکے۔ جمع کرائی گئی ڈگری اور جوائننگ رپورٹ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ٹریننگ ونگ کو بھیجی جائیں گی تاکہ مرکزی ریکارڈ مرتب رکھا جاسکے۔
انصار عباسی کے مطابق حکومت نے سرکاری وظائف اور تربیتی پروگراموں پر اٹھنے والے اخراجات کی وصولی اور افسران کی لازمی مدتِ ملازمت پوری کرنے سے متعلق نگرانی بھی سخت کردی ہے۔
ضمانتی بانڈ جمع کرانے والے ہر افسر کے لیے مالی ذمہ داریوں کی تفصیل مرتب کی جائے گی، جس میں اسکالرشپ، تربیت اور قابلِ وصول دیگر ادائیگیوں کے اخراجات شامل ہوں گے۔ اس میں واپسی کے بعد لازمی طور پر سرکاری ملازمت جاری رکھنے کی مدت اور ضمانتی بانڈ کی خلاف ورزی کی صورت میں قابلِ وصول رقم بھی درج ہوگی۔
مزید پڑھیں:’قرضوں میں ڈوبا ملک، افسران شاہی بگھیوں میں‘ سرکاری تقریب پر عوامی و صحافتی حلقوں کی تنقید
رپورٹ کے مطابق منظور شدہ رخصت، مطالعاتی رخصت یا ڈیپوٹیشن میں توسیع کی درخواست زیرِ التوا ہونے کی بنیاد پر افسر کو ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ افسران کو منظور شدہ مدت مکمل ہونے پر ڈیوٹی پر رپورٹ کرنا ہوگا، جبکہ جوائننگ رپورٹ جمع نہ کرانے کی صورت میں معاملہ مزید کارروائی کے لیے اعلیٰ حکام کو بھیجا جاسکتا ہے۔










