ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کا مذاکرات کے ذریعے حل ناگزیر ہے، تاہم مذاکراتی حل میں ناکامی اور فوجی تصادم کی صورت میں مکہ الائنس کا اجتماعی دفاعی نظام متحرک ہوگا۔
عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر بہت کم وقت میں پیشرفت ہوئی ہے، یہ معاہدہ 3 ممالک کی مشترکہ سوچ کا نتیجہ ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ حرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا اور پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کا پیغام سیاسی قیادت اور فیلڈ مارشل کے ذریعے پہلے ہی سامنے آچکا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہےکہ مشرق وسطیٰ تنازع پر مذاکرات کے ذریعےکسی نتیجے پر پہنچنا ناگزیرہے جب کہ مذاکراتی حل میں ناکامی اور فوجی تصادم پر مکہ الائنس کا اجتماعی ڈیٹرنس حرکت میں آئےگا۔
@KulAalam @abduljabbarisb https://t.co/x360toNIh9— Media Talk (@mediatalk922) October 19, 2026
انہوں نے کہا کہ مقدس مقامات پر حملوں کے معاملے پر عوام، سیاسی قیادت اور عسکری قیادت میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ تنازعات کی شدت میں کسی بھی سطح پر اضافہ کسی ملک کے مفاد میں نہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ میں فوجی تصادم کو مزید پھیلنے سے روکنا ضروری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق مکہ الائنس کی قیادت اور لائحہ عمل واضح ہے اور اس کا کوئی جارحانہ ارادہ نہیں۔
مزید پڑھیں:ڈی جی آئی ایس پی آر کی یونیورسٹی آف گوادر میں اساتذہ اور طلبا کے ساتھ خصوصی نشست
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔











