ضلع لودھراں کی تحصیل کہروڑپکا شہر اور گردونواح میں کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے متعدد سرکاری اسکول حکومتی عدم توجہی اور مناسب دیکھ بھال کے فقدان کے باعث خستہ حالی کا شکار ہیں۔ کہیں اسکولوں کی عمارتیں کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں تو کہیں کلاس رومز کے دروازے اور کھڑکیاں غائب ہیں۔ بعض اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ خالی کمروں میں جانوروں کے ڈیرے اور گوبر و بھوسے کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ قومی خزانے سے تعمیر ہونے والی ان عمارتوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کس کی ہے؟
تعلیم کو قوموں کی ترقی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، تاہم کہروڑپکا کے مختلف علاقوں میں قائم سرکاری اسکولوں کی صورتحال کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی بعض عمارتیں مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث تباہ حالی کا شکار ہیں۔ کہیں دیواریں موجود نہیں تو کہیں کھڑکیاں اور دروازے غائب ہیں، جبکہ بعض کلاس رومز میں تعلیمی سرگرمیوں کے بجائے جانوروں کی موجودگی نظر آتی ہے۔
مقامی آبادی کے مطابق ان عمارتوں کی تعمیر کا بنیادی مقصد بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنا تھا، لیکن ان کی موجودہ حالت دیکھ کر اس مقصد کے حصول پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اسکولوں کی عمارتوں کی بروقت مرمت اور مناسب دیکھ بھال کی جاتی تو انہیں اس قدر خستہ حالی اور تباہی سے بچایا جا سکتا تھا۔
مقامی شہریوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام مسائل کا حل تخت لاہور کے پاس نہیں، بلکہ مقامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے بااختیار مقامی حکومتوں کا قیام یا نئے صوبوں کی تشکیل ضروری ہے۔
شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کہروڑپکا اور گردونواح میں خستہ حالی کا شکار سرکاری اسکولوں کا فوری سروے کرایا جائے، عمارتوں کی مرمت اور بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور جن اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، وہاں بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے متبادل انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ مزید جانیے رمضان بھٹی کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔










