تیراکوں نے چھوٹی، خم دار اسٹکس تھامے اپنی سانسیں روکی ہوئی تھیں جب وہ ہانگ کانگ کے ایک سوئمنگ پول کی تہہ میں رکھے وزنی پک کی طرف کلابازیاں کھاتے اور غوطہ لگاتے ہوئے پہلی پوزیشن کے لیے مقابلہ کر رہے تھے۔ ایک ایسا کھیل جسے ’رضاکارانہ طور پر ڈوبنا‘ کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برٹش کولمبیا کے پانیوں میں تیرتا جنگل نمودار، چند روز بعد پراسرار طور پر غائب
اے ایف پی کے مطابق سالانہ انڈر واٹر ہاکی ٹورنامنٹ کو خوفناک انداز میں ’جسمانی جہنم‘ کے طور پر مشتہر کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود ویک اینڈ پر چینی شہر میں ایشیا بھر کے ممالک سے سخت جان شائقین کی ایک بڑی تعداد کو کھینچ لایا۔
ہوکائیڈو سے تعلق رکھنے والے جاپانی نیوزی لینڈ کے کھلاڑی لیو لائنز نے بتایا کہ آپ کو یہ انتخاب کرنا پڑتا ہے کہ کب سانس استعمال کرنی ہے اور کب نہیں اور جس کے پاس بھی پک ہے آپ جانتے ہیں کہ وہ کسی حد تک تکلیف میں ہے۔
اسنورکل ماسک اور فنز پہنے ہوئے کھلاڑی صرف اسی وقت سانس لینے کے لیے سطح پر آتے ہیں جب انہیں بالکل ضرورت ہو اور ان کے سر مسلسل پانی کے اندر رہتے ہیں تاکہ وہ کھیل پر نظر رکھ سکیں۔
ہر ٹیم میں کھلاڑی 6، گول کیپر ندارد
ہر ٹیم میں 6 کھلاڑی ہوتے ہیں اور کوئی گول کیپر نہیں ہوتا جبکہ ریفری فاؤلز پر نظر رکھتے ہیں اور سنگین خلاف ورزی پر کھلاڑیوں کو پینلٹی باکس میں بھیج دیتے ہیں۔
ہانگ کانگ میں مقیم پولش اکیڈمک اور کھلاڑی ریتا فریسکے نے بتایا کہ آپ کامیاب ہونے اور گول کرنے کی کوشش میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ آپ سانس روکنے کا طریقہ بھی بھول جاتے ہیں۔
مزید پڑھیے: سمندر کی گہرائیوں میں چھپے راز، سائنسدانوں نے گھوسٹ شارک کی نئی نسل دریافت کر لی
کھیل 30 منٹ تک جاری رہتے ہیں اور 2 حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں جن کے درمیان 3 منٹ کا وقفہ ہوتا ہے۔ اس کٹھن کھیل نے ایک گہری برادری بنا دی ہے۔
ملائیشیا کے کھلاڑی ہوئی چن تیوہ نے کہا کہ یہ اس اذیت ناک تجربے کی طرح ہے جو ہر کسی کو ایک ساتھ زندہ رہنے پر مجبور کرتا ہے اور پھر آپ طویل عرصے تک ایک ساتھ جڑے رہتے ہیں۔
انڈر واٹر ہاکی جسے پہلے ’آکٹو ُپش‘ کہا جاتا تھا سنہ 1954 میں انگلینڈ میں سردیوں کے آف سیزن مہینوں کے دوران غوطہ خوروں کو فٹ رکھنے کے طریقے کے طور پر ایجاد کی گئی تھی۔
اگرچہ ابھی تک یہ اولمپک کھیل نہیں ہے لیکن اسے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے تسلیم کیا ہے اور اس نے سنہ 2019 میں جنوب مشرقی ایشیائی کھیلوں میں اپنا آغاز کیا۔
مقابلے کے منتظمین کو امید ہے کہ جیسے جیسے انڈر واٹر کیمرا ٹیکنالوجی بہتر ہوگی تماشائیوں کا تجربہ بھی بہتر ہوگا۔
ہیڈ کوچ اور ٹورنامنٹ ڈائریکٹر نووی اگناسیو نے کہا کہ سوشل میڈیا کی بدولت انڈر واٹر ہاکی کا مستقبل اب پہلے سے زیادہ روشن ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب میں کھیلتا تھا تو یہ صرف زبانی کلامی تھا لیکن اب اسے دیکھنے کے بہت سے ذرائع ہیں اور مقابلے اب دراصل براہ راست ٹیلی کاسٹ کیے جاتے ہیں۔
ہانگ کانگ ٹورنامنٹ کے بہت سے کھلاڑیوں کی نظریں اگلے اپریل میں فرانس میں ہونے والی ایلیٹ ورلڈ چیمپئین شپ پر ہیں جس میں منتظمین کو توقع ہے کہ تقریباً 20 ممالک حصہ لیں گے۔
مزید پڑھیں: سمندر کی گہرائیوں کا ایک اور حسین راز آشکار: مٹھی میں سماجانے والا ننھا نیلا آکٹوپس توجہ کا مرکز
اگناسیو نے کہا کہ لوگ یہ سمجھنا شروع کر رہے ہیں کہ انڈر واٹر ہاکی کیا ہے اور اب ہماری نظریں اولمپکس پر ہے۔











