سائنس دانوں نے جنوبی امریکا میں گالاپاگوس جزائر کے قریب گہرے سمندر میں ایک نہایت ننھے نیلے آکٹوپس کی نئی نسل دریافت کی ہے جسے باضابطہ طور پر مائیکروایلیڈون گالاپاگینسس کا نام دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیلیفورنیا: مقبول آکٹوپس ’گھوسٹ‘ کی زندگی کے آخری دن، مداحوں کی الوداعی دعائیں
گالاپاگوس جزائر جنوبی امریکی ملک ایکواڈور کے زیر انتظام بحرالکاہل میں واقع ہیں اور اپنی نایاب سمندری اور زمینی حیات کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں۔
یہ ننھا آکٹوپس اتنا چھوٹا ہے کہ آسانی سے ہاتھ کی ہتھیلی میں سما سکتا ہے۔ اسے پہلی بار سنہ 2015 میں تحقیقی جہاز ای/وی نوٹیلس کے ذریعے ایک گہرے سمندری مشن کے دوران دیکھا گیا تھا۔
محققین نے ایک ریموٹ کنٹرول روبوٹک آلے کی مدد سے گالاپاگوس کے شمالی علاقے ڈارون جزیرے کے قریب سمندر کی تہہ کا جائزہ لیا جہاں تقریباً 1773 میٹر گہرائی میں یہ منفرد نیلا آکٹوپس نظر آیا۔
مزید پڑھیے: ہاتھی جیسی نایاب ’ڈمبو آکٹوپس‘ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ
ماہرین نے اس نایاب جاندار کو محفوظ طریقے سے حاصل کرنے کے بعد اس کی شناخت کے لیے جدید سی ٹی اسکین ٹیکنالوجی استعمال کی اور ہزاروں مائیکرو اسکینز کی مدد سے اس کا 3 جہتی ماڈل تیار کیا گیا جس سے اس کے جسمانی خدوخال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کی سربراہ جینیٹ ووائٹ کے مطابق انہوں نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی میں ایسا آکٹوپس پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
مزید پڑھیں: ارجنٹینا: گہرے سمندر میں نایاب دریافت، اسکول بس کے سائز کی جیلی فِش نمودار
محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سمندر کی گہرائیوں میں اب بھی بے شمار راز پوشیدہ ہیں۔














