جنہوں نے کبھی سگریٹ نہیں پی وہ بھی ویپنگ کے عادی کیوں ہورہے ہیں؟ اصل وجوہات سامنے آگئیں

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ویپنگ کو ابتدا میں سگریٹ نوشی ترک کرنے کا ایک متبادل ذریعہ سمجھا جاتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ رجحان ایسے نوجوانوں میں بھی تیزی سے مقبول ہوگیا ہے جنہوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں: ’آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے‘: ای سگریٹ گلے پڑگئی، بچے بھی لت میں مبتلا

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق خوش ذائقہ ویپس، رنگ برنگے ڈیزائن، سماجی میل جول اور ذہنی دباؤ سے عارضی راحت حاصل کرنے کی خواہش ایسے عوامل ہیں جو لوگوں کو اس عادت کی طرف راغب کررہے ہیں تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ نکوٹین کی موجودگی اسے نشے اور نفسیاتی انحصار کا ذریعہ بنا سکتی ہے۔

برطانیہ کے ادارہ برائے قومی شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق وہاں 10 لاکھ سے زیادہ ایسے افراد ویپنگ کررہے ہیں جنہوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی۔

یہ تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔ مجموعی طور پر برطانیہ میں 16 سال اور اس سے زیادہ عمر کے تقریباً 54 لاکھ افراد ویپ استعمال کرتے ہیں جبکہ سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد کم ہوکر تقریباً 49 لاکھ رہ گئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی وہ ویپنگ کی طرف کیوں راغب ہورہے ہیں اور ایک بظاہر معمولی شوق کس طرح روزمرہ زندگی کی ایسی عادت بن جاتا ہے جسے چھوڑنا مشکل ہوجاتا ہے؟

دوستوں کی دیکھا دیکھی شروع ہونے والی عادت

21 سالہ گریسی منگولو کا کہنا ہے کہ جب ان کے تعلیمی ادارے میں ویپنگ کا رجحان شروع ہوا تو وہ اس کی سخت مخالف تھیں۔ انہیں یہ عادت سگریٹ نوشی جتنی ہی ناگوار محسوس ہوتی تھی اور وہ اپنے ہم جماعتوں سے سوال کرتی تھیں کہ آخر وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے: برطانیہ میں ڈسپوزایبل ویپس پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟

تاہم جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے اردگرد تقریباً سب ہی لوگ ویپ استعمال کررہے ہیں تو وہ بھی اس کی طرف مائل ہوگئیں۔ 16 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ ویپ استعمال کیا تو انہیں کھانسی ہونے لگی، لیکن رفتہ رفتہ وہ اس کی عادی ہوگئیں۔

گریسی کے مطابق جتنا زیادہ آپ لوگوں کو یہ کرتے دیکھتے ہیں اتنا ہی خود بھی آزمانے کا دل کرتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے جب یہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔

اب وہ ایک ہیئر ڈریسر کے طور پر کام کرتی ہیں اور اپنے فارغ لمحات میں مسلسل ویپ استعمال کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ویپ چھوڑنے کا تصور بھی انہیں خوفزدہ کرتا ہے۔

ذہنی دباؤ اور بے چینی بھی اہم وجہ

گریسی کے مطابق ویپنگ انہیں سماجی میل جول کے دوران محسوس ہونے والی بے چینی سے نمٹنے میں مدد دیتی ہے۔ ان کے لیے ہاتھ میں کوئی چیز پکڑے رکھنا اور منہ میں ویپ رکھنا ایک طرح کا سکون فراہم کرتا ہے۔م

مزید پڑھیں: کیا پاکستان میں ویپنگ، ای سگریٹ پر پابندی لگنے والی ہے؟

تاہم وہ تسلیم کرتی ہیں کہ یہ عمل اب ایک ایسی خودکار عادت بن چکا ہے جس کے دوران انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ کتنی مرتبہ ویپ استعمال کرچکی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھیں، ایک ہاتھ میں ویپ تھا اور دوسرے ہاتھ سے انسٹاگرام دیکھ رہی تھیں۔ انہیں اس بات کا احساس بھی نہیں تھا کہ وہ مسلسل ویپ استعمال کررہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ویپنگ کے عادی ہونے کی ایک بڑی وجہ اس کا نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ فیملی فزیشن ڈاکٹر ہیلن وال کا کہنا ہے کہ بعض افراد کسی بیرونی چیز پر نفسیاتی طور پر انحصار کرنے لگتے ہیں تاکہ اپنے جذبات اور ذہنی کیفیت کو قابو میں رکھ سکیں۔

ان کے مطابق یہ عمل محض نکوٹین کی طلب تک محدود نہیں رہتا بلکہ وقت کے ساتھ ایک ایسی عادت بن جاتا ہے جسے انسان بے دھیانی میں بھی دہراتا رہتا ہے۔

سوشل میڈیا دیکھتے ہوئے ویپنگ کی عادت

33 سالہ مالن اینڈرسن بھی ان افراد میں شامل ہیں جو حال ہی میں ویپنگ ترک کرچکی ہیں۔ وہ پہلے کبھی کبھار سگریٹ بھی استعمال کرتی تھیں لیکن خود کو باقاعدہ سگریٹ نوش نہیں سمجھتی تھیں۔

ان کے مطابق زندگی میں ایک مشکل دور اور رشتے کے خاتمے کے بعد انہوں نے ذہنی دباؤ سے عارضی سکون حاصل کرنے کے لیے ویپنگ شروع کی۔

یہ بھی پڑھیے: کچرے میں پھینکے جانے والی ای سگریٹس سے آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ

مالن کا کہنا ہے کہ انہیں اس عادت کا سب سے زیادہ عادی اس کا جسمانی عمل بنا جس میں بار بار ہاتھ منہ کی طرف لے جانا اور ویپ کا استعمال کرنا شامل ہے۔ وہ اسے فوری طور پر خوشی یا اطمینان کا احساس دینے والا عمل قرار دیتی ہیں۔

ان کے مطابق ویپنگ انہیں ایک مصنوعی سکون فراہم کرتی تھی لیکن اس کے ساتھ ان کی توجہ اور کام کرنے کی تحریک بھی متاثر ہورہی تھی۔ سوشل میڈیا پر مسلسل مواد دیکھنے اور ویپ استعمال کرنے کی عادت بھی ایک دوسرے سے جڑ گئی تھی۔

بالآخر وہ اپنی اس عادت سے اس قدر تنگ آگئیں کہ رواں سال مئی میں انہوں نے ویپنگ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر شدید جھنجھلاہٹ ہوتی تھی کہ ویپ ہر وقت ان کے ہاتھ میں رہتا ہے اور بعض اوقات وہ غصے میں اسے کمرے میں پھینک دیتی تھیں۔

مالن کے مطابق ویپنگ ترک کرنے کے بعد انہیں اپنی جسمانی اور ذہنی صحت میں بہتری محسوس ہوئی۔

شوق کب روزمرہ ضرورت بن جاتا ہے؟

مانچسٹر سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ الیکس نے بھی ابتدا میں دوستوں کے ساتھ باہر جانے کے دوران کبھی کبھار ویپ استعمال کرنا شروع کیا لیکن پھر وہ اسے گھر بھی لے جانے لگیں۔

ان کے مطابق آہستہ آہستہ یہ عادت ان کی زندگی میں اس طرح شامل ہوگئی کہ وہ بستر پر لیٹ کر لیپ ٹاپ پر کام کررہی ہوتیں تو ویپ بھی ان کے سینے پر رکھا ہوتا تھا۔

الیکس کا کہنا ہے کہ وہ کئی ماہ سفر کے دوران ویپنگ چھوڑنے میں کامیاب ہوگئیں لیکن جب انہیں ویپ دستیاب نہیں ہوا تو انہوں نے پہلی مرتبہ سگریٹ نوشی شروع کردی۔

یہ تجربہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ویپنگ چھوڑنے کے عمل میں مناسب رہنمائی اور مدد کتنی اہم ہوسکتی ہے۔

کیا ویپنگ واقعی سگریٹ سے کم نقصان دہ ہے؟

ماہرین کے مطابق نکوٹین ایک انتہائی نشہ آور مادہ ہے جو ویپس اور سگریٹ دونوں میں موجود ہوسکتا ہے۔ اس کا استعمال ترک کرنے یا جسم میں اس کی مقدار کم ہونے پر چڑچڑاپن، بے چینی اور دیگر علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔

برطانیہ کی یونیورسٹی کالج لندن سے وابستہ پروفیسر سارہ جیکسن کے مطابق ویپنگ کرنے والے تمام افراد کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ بعض افراد اگر ویپنگ شروع نہ کرتے تو ممکن ہے وہ سگریٹ نوشی کی طرف چلے جاتے۔ ایسی صورت میں ویپنگ نے انہیں نسبتاً زیادہ نقصان دہ عادت سے دور رکھا ہوگا لیکن دوسری جانب ایسے افراد بھی ہیں جو کسی اور صورت میں نکوٹین استعمال نہیں کرتے تھے اور اب ویپنگ کے ذریعے اس کے خطرات سے دوچار ہورہے ہیں۔

ان کے مطابق سنہ 2024 میں یونیورسٹی کالج لندن کے محققین کی ایک تحقیق میں بھی انگلینڈ کے نوجوانوں میں نکوٹین کے استعمال میں اضافے کی نشاندہی ہوئی تھی جبکہ سگریٹ نوشی میں کمی دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ویپنگ کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اگرچہ سگریٹ نوشی کرنے والوں کے لیے ویپنگ کو نسبتاً کم نقصان دہ متبادل سمجھا جاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ بے ضرر ہے۔

خوش ذائقہ اور رنگ برنگے ویپس نوجوانوں کو کیسے متوجہ کرتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق ویپنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان میں اس کی تشہیر، دلکش پیکنگ، مختلف خوشبوؤں اور ذائقوں کا بھی اہم کردار ہے۔

تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والے ادارے ایکشن آن اسموکنگ اینڈ ہیلتھ سے وابستہ ہیزل چیزمین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد میں بھی ویپنگ کا رجحان پیدا ہونے میں اس کی نمایاں تشہیر کا کردار ہوسکتا ہے جنہوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی تھی۔

ڈاکٹر ہیلن وال کے مطابق ویپس کی پرکشش تشہیر نے بعض لوگوں میں یہ غلط تاثر پیدا کیا ہے کہ یہ محفوظ ہیں اور ان کی لت نہیں لگ سکتی۔

گریسی منگولو بھی سمجھتی ہیں کہ ویپس کو سادہ پیکنگ میں فروخت کیا جانا چاہیے جیسا کہ سگریٹ کے لیے کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف ذائقوں اور خوبصورت رنگوں والے ویپس لوگوں کو اپنی طرف زیادہ متوجہ کرتے ہیں۔

ویپنگ چھوڑنا بھی آسان نہیں

ماہرین کے مطابق ویپنگ کی عادت ترک کرنا بھی مشکل ہوسکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب کوئی شخص نکوٹین اور اس سے وابستہ نفسیاتی عادت دونوں کا عادی ہوچکا ہو۔

برطانیہ کے ادارہ صحت این ایچ ایس کے مطابق ویپنگ چھوڑنے کے لیے بتدریج نکوٹین کی مقدار کم کرنا، ویپ استعمال کرنے کے وقفے بڑھانا یا مناسب نکوٹین متبادل علاج اختیار کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پھیپھڑے صحت کا راز کھولتے ہیں، ان کی کاردکردگی خود کیسے چیک کی جائے؟

تاہم ویپنگ ترک کرنے کے لیے طبی معاونت اور رہنمائی کی سہولت ہر جگہ یکساں دستیاب نہیں۔ انگلینڈ میں کیے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں میں سے نصف سے بھی کم یعنی 45 فیصد ویپنگ چھوڑنے کے خواہش مند افراد کو اس حوالے سے مدد فراہم کررہے تھے۔

ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ویپنگ چھوڑنے کے لیے دوبارہ سگریٹ نوشی شروع کرنا کسی صورت مناسب متبادل نہیں کیونکہ سگریٹ نوشی قابلِ تدارک بیماریوں اور قبل از وقت اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔

این ایچ ایس کے مطابق غیر سگریٹ نوش افراد اور 17 سال یا اس سے کم عمر بچوں کو ویپنگ سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے جبکہ برطانیہ میں 18 سال سے کم عمر افراد کو ویپس فروخت کرنا غیرقانونی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو سگریٹ نوشی چھوڑنے کے ایک متبادل کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا لیکن اس کا مقصد ایسے افراد میں نکوٹین کے استعمال کو فروغ دینا نہیں تھا جنہوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی۔

مزید پڑھیے: ای سگریٹس: سگریٹ نوشی چھوڑنے میں مددگار مگر مضر صحت قرار

اس لیے ضروری ہے کہ ویپنگ کو محض ایک فیشن یا بے ضرر عادت سمجھنے کے بجائے اس کے ممکنہ نقصانات، نکوٹین کی لت اور طویل مدتی اثرات کو بھی سمجھا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp