کینیڈا کے صوبے البرٹا میں ریفرنڈم کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کینیڈا کے تیل سے مالا مال صوبے البرٹا میں کینیڈا سے علیحدگی کے معاملے پر ریفرنڈم کرایا جارہا ہے، جس میں شہریوں سے پوچھا جارہا ہے کہ آیا وہ کینیڈا کا حصہ رہنا چاہتے ہیں یا علیحدگی کے لیے قانونی عمل شروع کرنے کے حق میں ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ البرٹا میں علیحدگی کے سوال پر عوامی رائے طلب کی جارہی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ ریفرنڈم قانونی طور پر پابند نہیں ہوگا۔ تاہم اگر علیحدگی کے حق میں سادہ اکثریت حاصل ہوئی تو صوبے میں علیحدگی سے متعلق قانونی طور پر ریفرنڈم کرانے کا عمل شروع ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا: خالصتان ریفرنڈم میں ہزاروں سکھوں کی شرکت، بھارت ووٹنگ رکوانے میں ناکام

رپورٹ کے مطابق رائے عامہ کے جائزوں میں تقریباً 70 فیصد شہریوں نے کینیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت کی ہے، جبکہ تقریباً ایک چوتھائی شہری البرٹا کو ایک آزاد ریاست بنانے کے حامی ہیں۔

ریفرنڈم میں شہریوں کے سامنے 10 سوالات رکھے گئے ہیں، جن میں سے ہر سوال کے لیے مختلف رنگ کا بیلٹ پیپر ہوگا۔ آخری سوال میں پوچھا جائے گا کہ آیا البرٹا کو کینیڈا کا صوبہ برقرار رہنا چاہیے یا علیحدگی پر قانونی حیثیت رکھنے والے ریفرنڈم کرانے کا عمل شروع کیا جائے۔ دیگر 9 سوالات امیگریشن، تعلیم، صحت، سماجی خدمات تک رسائی اور ووٹرز کی شناخت کے تقاضوں سے متعلق ہیں۔

البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے مئی میں علیحدگی کے معاملے پر ووٹنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوام کی رائے معلوم کرکے اس معاملے پر پیشرفت کی جانی چاہیے۔ ان کے اس فیصلے سے قبل علیحدگی کے حامی ایک چھوٹے مگر سرگرم گروپ نے کئی ماہ تک مہم چلائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: تیل سے مالا مال کینیڈین صوبے البرٹا میں علیحدگی کے معاملے پر ووٹنگ

علیحدگی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ البرٹا کی توانائی سے حاصل ہونے والی دولت ملک کے نسبتاً غریب علاقوں پر خرچ کی جارہی ہے، جبکہ وفاقی دارالحکومت اوٹاوا کی بیوروکریسی صوبے کی معیشت کی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں بتایا تھا کہ انہوں نے پیشگی ووٹنگ کے دوران البرٹا کے کینیڈا کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔

کینیڈا میں اس سے قبل بھی علیحدگی کے معاملے پر ریفرنڈم ہوچکے ہیں۔ فرانسیسی زبان بولنے والی اکثریت کے حامل صوبے کیوبیک میں 1980 اور 1995 میں 2 مرتبہ ریفرنڈم کرایا گیا، تاہم دونوں مرتبہ عوام نے کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیا، 1995 کے ریفرنڈم میں علیحدگی مخالف ووٹوں کی برتری انتہائی معمولی تھی۔

کیوبیک کی علیحدگی پسند جماعت پارتی کیبیکوا نے رواں ماہ صوبائی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے اور تیسرا ریفرنڈم کرانے کا وعدہ کیا ہے، تاہم جماعت نے اس کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ چھوڑنے اور صوبائی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کی شرط رکھی ہے۔ جماعت نے 5 اکتوبر کو اقلیتی حکومت بنائی تھی، جسے قانون سازی کے لیے چھوٹی جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا

کینیڈا 10 صوبوں اور 3 وفاقی علاقوں پر مشتمل ہے۔ دفاع، تجارت اور خارجہ پالیسی جیسے قومی معاملات وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جبکہ صحت، تعلیم اور زمین کے حقوق سمیت متعدد امور میں صوبوں اور وفاقی علاقوں کو نمایاں اختیارات حاصل ہیں۔

علیحدگی کے حق میں ووٹ آنے کی صورت میں بھی البرٹا فوری طور پر کینیڈا سے الگ نہیں ہوگا۔ 1995 میں کیوبیک کے ریفرنڈم کے بعد کینیڈا کی پارلیمنٹ نے 2000 میں کلیئرٹی ایکٹ منظور کیا تھا، جس کے تحت علیحدگی پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے عوامی حمایت واضح اکثریت پر مبنی ہونی چاہیے، تاہم قانون میں اس اکثریت کی مخصوص شرح مقرر نہیں کی گئی۔

قانون کے مطابق کسی صوبے کو یکطرفہ طور پر کینیڈا سے علیحدہ ہونے کا حق حاصل نہیں اور اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت، صوبوں اور وفاقی علاقوں کے درمیان مذاکرات کے بعد آئینی ترمیم ضروری ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp