پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان کی اشیا کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس میں چاول سمیت غذائی اشیا کی برآمدات نے اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستان 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف پورا کر سکتا ہے؟
جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران ملکی اشیا کی مجموعی برآمدات تقریباً 8.42 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 7.60 ارب ڈالر تھیں۔ اس طرح برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 10.8 فیصد اضافہ ہوا۔
پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان کی برآمدات 2.939 ارب ڈالر رہیں جبکہ ستمبر 2025 میں ان کی مالیت 2.499 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس طرح ایک سال کے دوران ماہانہ برآمدات میں 17.61 فیصد اضافہ ہوا جو پاکستانی مصنوعات کی بیرونی منڈیوں میں طلب اور برآمدی سرگرمیوں میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
غذائی اشیا کی برآمدات میں 25.31 فیصد اضافہ
پاکستان کی غذائی اشیا کی برآمدات میں پہلی سہ ماہی کے دوران نمایاں بہتری سامنے آئی۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا ستمبر 2026 میں غذائی اشیا کی برآمدات بڑھ کر 1.388 ارب ڈالر ہوگئیں جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 1.108 ارب ڈالر تھیں۔ اس طرح غذائی برآمدات کی مالیت میں 280 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ شرح نمو 25.31 فیصد رہی۔
اس اضافے میں چاول کی برآمدات کا کردار سب سے نمایاں رہا۔ چاول کی عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت، باسمتی چاول کی مقبولیت اور نئی تجارتی سرگرمیوں کو اس پیش رفت کے اہم عوامل قرار دیا جا رہا ہے۔
چاول کی برآمدات میں نمایاں تیزی
پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق پہلی سہ ماہی میں چاول کی مجموعی برآمدات کی مالیت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 55.89 فیصد اضافہ ہوا۔ باسمتی چاول کی برآمدات میں 86.28 فیصد جبکہ غیر باسمتی چاول کی برآمدات میں 39.20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مزید پڑھیے: پاکستان روس کی سی فوڈ مارکیٹ پہنچ گیا، 30 کروڑ ڈالر کی ابتدائی برآمدات کا امکان روشن
باسمتی چاول کی برآمدات میں تیز رفتار نمو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستانی چاول کو بین الاقوامی منڈیوں میں بہتر مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ پاکستان کا طویل دانے والا باسمتی چاول اپنی خوشبو، ذائقے، پکنے کے بعد دانوں کی ساخت اور نسبتاً مسابقتی قیمت کے باعث عالمی صارفین میں پہچان رکھتا ہے۔ باسمتی کی C1121 سمیت مختلف اقسام بھی بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مخصوص خصوصیات کے باعث اہمیت رکھتی ہیں۔
پاکستانی چاول کی اہم منڈیوں میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، برطانیہ، یورپ، امریکا اور کینیڈا شامل ہیں۔ ان منڈیوں میں پاکستانی چاول کی موجودگی برآمدات میں اضافے کے امکانات کو تقویت دیتی ہے۔
گوشت، مچھلی اور مسالوں کی برآمدات بھی بڑھ گئیں
چاول کے علاوہ دیگر غذائی مصنوعات کی برآمدات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران گوشت اور اس کی مصنوعات کی برآمدات میں 21.09 فیصد، مچھلی اور اس کی مصنوعات میں 14.61 فیصد اور مسالوں کی برآمدات میں 18.94 فیصد اضافہ ہوا۔
اسی عرصے میں تمباکو کی برآمدات میں بھی 44.21 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی جو مختلف زرعی اور غذائی مصنوعات کے لیے بیرونی منڈیوں میں موجود مواقع کی نشاندہی کرتی ہے۔
گزشتہ مالی سال میں غذائی برآمدات کو دھچکا
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران خام غذائی مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی۔ ان کی مالیت 7.116 ارب ڈالر سے گھٹ کر 5.017 ارب ڈالر رہ گئی، جو 29.49 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔
اس پس منظر میں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران غذائی برآمدات میں اضافے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ آیا یہ رفتار آئندہ سہ ماہیوں میں بھی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔
چاول کے برآمد کنندگان کے لیے حکومتی اقدامات
چاول کی برآمدات کو سہارا دینے کے لیے وزارت تجارت نے چاول کی برآمدی سبسڈی اسکیم میں مزید 3 ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اسے 30 ستمبر تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ غیر باسمتی چاول کے لیے مقامی ٹیکسوں اور محصولات کی ڈیوٹی ڈرا بیک (ڈی ایل ٹی ایل) کی شرح میں بھی اضافہ کیا گیا تاکہ بین الاقوامی منڈی میں کمزور طلب کا سامنا کرنے والے برآمد کنندگان کو مدد فراہم کی جا سکے۔
ان اقدامات کا مقصد پاکستانی چاول کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنانا اور برآمد کنندگان کے اخراجات کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دینا تھا۔
چین کی منڈی میں پاکستانی چاول کے لیے نئے مواقع
پاکستانی چاول کی برآمدات بڑھانے کے لیے چین کی منڈی میں تجارتی روابط کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق پاکستان کی رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے گوانگ ژو کا دورہ کیا جہاں چینی اناج درآمد کنندگان، تقسیم کاروں اور فوڈ پروسیسنگ کمپنیوں کے ساتھ کاروباری ملاقاتیں کی گئیں۔ پاکستان کے کمرشل اور ٹریڈ قونصلر کی معاونت سے کاروباری روابط اور آن لائن ویبینارز کا بھی اہتمام کیا گیا۔
مزید پڑھیں: مسائل کے باوجود ٹیکسٹائل صنعت کا نیا ریکارڈ، صرف ایک ماہ میں پاکستانی برآمدات 1.83 ارب ڈالر سے تجاوز
ان سرگرمیوں کا مقصد پاکستانی چاول کے لیے براہ راست خریداروں تک رسائی، تجارتی معاہدوں کے امکانات میں اضافہ اور چین کی جنوبی منڈیوں میں رسد کو فروغ دینا تھا۔
گوانگ ژو میں پاکستان کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ قونصلر محمد عمران کے مطابق پاکستانی چاول اپنی مسابقتی قیمت، بہتر ملنگ معیار اور چین کی فوڈ پروسیسنگ اور مویشیوں کی خوراک کی صنعت میں بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث دوطرفہ تجارت میں اہم مقام حاصل کر رہا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کو چاول کی خام اجناس کی بڑی مقدار میں برآمدات کے ساتھ ساتھ اعلیٰ قدر کی حامل برانڈڈ اور پیک شدہ باسمتی مصنوعات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ جدید بیجوں کی ٹیکنالوجی میں مشترکہ سرمایہ کاری، چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے سے فائدہ اٹھانے اور طویل مدتی معاہدہ جاتی کاشتکاری کو فروغ دینے سے پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے مزید مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔
عالمی طلب اور علاقائی صورت حال کے اثرات
ماہرین کے مطابق چاول کی عالمی تجارت میں طلب، قیمتوں، پیداواری لاگت اور حریف ممالک کی برآمدی پالیسیوں کا اہم کردار ہے۔ پاکستانی چاول کی بہتر برآمدی کارکردگی کے باوجود اس شعبے کو موسمیاتی تبدیلیوں، پیداواری اخراجات، معیار برقرار رکھنے اور عالمی منڈی میں مقابلے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
پاکستان کے لیے چاول کی برآمدات اس لیے بھی اہم ہیں کہ یہ زرِمبادلہ کمانے کے ساتھ زرعی شعبے، کسانوں، ملنگ انڈسٹری، پیکنگ اور نقل و حمل سے وابستہ روزگار کو سہارا دیتی ہیں۔ پنجاب سمیت چاول پیدا کرنے والے علاقوں کی معیشت میں اس فصل کا اہم حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چین کی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی زبردست مانگ، برآمدات میں 50 فیصد سے زیادہ کا اضافہ
علاقائی منڈیوں میں طلب اور رسد کی تبدیلیاں بھی پاکستانی برآمدات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ تاہم افغانستان اور ایران سمیت بعض منڈیوں میں برآمدی سرگرمیوں اور خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات سے متعلق حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید مستند تجارتی اعداد و شمار درکار ہوں گے۔
برآمدات میں اضافے کو برقرار رکھنا اہم چیلنج
پاکستان کی مجموعی اشیا کی برآمدات میں پہلی سہ ماہی کے دوران 10.8 فیصد اور ستمبر میں 17.61 فیصد اضافہ ملکی تجارت کے لیے حوصلہ افزا پیشرفت ہے۔ اسی طرح غذائی برآمدات میں 25.31 فیصد اور باسمتی چاول کی برآمدات میں 86.28 فیصد نمو اس شعبے کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔
تاہم برآمدات میں پائیدار اضافے کے لیے صرف خام مال کی فروخت پر انحصار کرنے کے بجائے ویلیو ایڈیشن، برانڈنگ، جدید زرعی ٹیکنالوجی، بین الاقوامی معیار کی پابندی، لاگت میں کمی اور نئی منڈیوں تک رسائی پر توجہ دینا ضروری ہوگا۔
مزید پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو شکست دینے کے بعد پاکستان کی اسلحہ برآمدات میں نمایاں اضافہ
اگر پاکستان چاول اور دیگر زرعی مصنوعات کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی منڈیوں میں اپنے تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں کامیاب رہتا ہے تو یہ شعبہ مستقبل میں ملکی برآمدات اور زرمبادلہ کے حصول میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔










