وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ دہشتگردی ہے، جس کے خاتمے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں حکومت کا ساتھ دینا چاہیے، تاہم گورنر راج سے متعلق ان کا سیاسی مؤقف ہماری نظر میں بے بنیاد ہے۔ انشااللہ دہشتگردی کا خاتمہ 6 ماہ میں کر دیا جائے گا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سینیئر سیاستدان ہیں اور انہوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں اہم سیاسی کردار ادا کیا ہے۔ سیاست میں ہر کسی کا اپنا مؤقف ہوتا ہے اور گورنر راج کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان کا بھی اپنا مؤقف ہے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت کا باب بند ہوچکا، اب کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، لیکن ہمیں بھی ان کے مؤقف سے اختلاف کرنے کا حق ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کچھ جوش و جذبے میں بات کی، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ان کی بات کا احترام کے ساتھ جواب دیا۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے، کیونکہ اس وقت خیبرپختونخوا کا بنیادی مسئلہ دہشت گردی ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں سے بڑھ کر کوئی قربانی نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دینا چاہیے اور اس معاملے کو کسی دوسرے مسئلے سے منسوب نہیں کرنا چاہیے۔
’پی ٹی آئی میں کچھ لوگ پس پردہ مذاکرات خراب کر رہے تھے‘
مشعال یوسف زئی کے بیان سے متعلق سوال پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو سیاست کرنی چاہیے۔ نئے صوبوں، نہروں، پانی کی تقسیم اور انتظامی یونٹس جیسے اہم معاملات پر بات ہونی چاہیے، لیکن پی ٹی آئی نے یہ طرزِ عمل اختیار کر رکھا ہے کہ ہر دوسرے سال اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے نکل پڑتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشعال یوسف زئی نے جو بات کی ہے، پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کی سوچ بھی یہی تھی کہ معاملات کو حل کیا جائے۔ تاہم پی ٹی آئی کے اندر کچھ لوگ پس پردہ مذاکرات خراب کر رہے تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مسائل اب تک حل ہوچکے ہوتے۔
رانا ثنااللہ کے مطابق اگر پی ٹی آئی سیاسی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتی تو عمران خان سے ملاقات اور مقدمات سے متعلق معاملات ایک ہفتے کے اندر حل ہوسکتے تھے۔
’خیبرپختونخوا کی معدنیات سے متعلق مولانا فضل الرحمان کا مؤقف بے بنیاد ہے‘
رانا ثنااللہ نے مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مؤقف کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا خیبرپختونخوا میں معدنیات کھلے میدانوں میں پڑی ہیں کہ امریکا انہیں ٹرکوں میں بھر کر اسلام آباد لے آئے گا؟
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ابھی معدنی وسائل کی نقشہ بندی تک نہیں ہوئی اور یہ بھی مکمل طور پر معلوم نہیں کہ وہاں کون سی معدنیات موجود ہیں اور کون سی نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس معدنیات نکالنے کے لیے درکار وسائل اور ٹیکنالوجی بھی موجود نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنے سیاسی مؤقف کو وزن دینے کے لیے مختلف معاملات کو آپس میں ملا دیا ہے۔
’دہشتگردی کا خاتمہ برسوں نہیں، ہفتوں اور مہینوں میں ہوگا‘
رانا ثنااللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اب برسوں کا وقت نہیں لگے گا بلکہ یہ کام ہفتوں اور مہینوں میں مکمل کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: گورنر راج کے بعد وزیراعظم کا پہلا دورۂ پشاور کتنا اہم ہے، کن اعلانات کی توقع ہے؟
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انشااللہ خیبرپختونخوا سے دہشت گردی کا خاتمہ 6 ماہ کے اندر کر دیا جائے گا۔











