امریکی پابندیوں کے باوجود عالمی فوجداری عدالت انسانی حقوق ایوارڈ کے لیے نامزد

منگل 20 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے والی عالمی فوجداری عدالت یعنی آئی سی سی کو پیر کے روز یورپی یونین کے اعلیٰ ترین انسانی حقوق ایوارڈ، سخاروف پرائز، کے لیے 3 حتمی امیدواروں میں شامل کر لیا گیا۔

اس اقدام کو عدالت کے حامیوں نے ایسے وقت میں بین الاقوامی قوانین پر مبنی نظام کی حمایت کا اظہار قرار دیا ہے جب یہ نظام کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کی عالمی انصاف کے خلاف مہم: اقوام متحدہ اور عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں پر دہشتگردی والی پابندیاں عائد

یورپی پارلیمنٹ نے نیدرلینڈز میں قائم عالمی فوجداری عدالت کو سخاروف پرائز کے 3 حتمی امیدواروں میں شامل کیا ہے۔

دیگر امیدواروں میں تنزانیہ کے حزب اختلاف کے رہنما ٹنڈو لیسو اور ایرانی حکومت کے خلاف مقدمات کا سامنا کرنے والی جڑواں بہنیں ترانہ رحیمی اور رومینا رحیمی شامل ہیں۔

1988 میں قائم کیا گیا یہ ایوارڈ سابق سوویت مخالف رہنما آندرے سخاروف کے نام سے منسوب ہے، یہ ان افراد یا تنظیموں کو ہر سال دیا جاتا ہے جو انسانی حقوق یا جمہوریت کے فروغ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔

آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے یورپی پارلیمنٹ کے اعتدال پسند رکن بیری اینڈریوز نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی کشیدہ صورت حال کے پیش نظر، ان کی جدوجہد میں حمایت کرنا یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور مشکل ہو گیا ہے۔

اس ایوارڈ کے امیدواروں کو یورپی پارلیمنٹ کے سیاسی گروپوں اور انفرادی ارکان کی جانب سے نامزد کیا جاتا ہے۔

تنزانیہ کی حزب اختلاف کی جماعت چاڈیما کے سربراہ ٹنڈو لیسو کو اپریل 2025 میں گرفتار کیا گیا تھا، ان پر گزشتہ سال ہونے والے انتخابات کے بائیکاٹ کے لیے عوام کو مبینہ طور پر اکسانے کا الزام ہے، غداری کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر انہیں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: عالمی فوجداری عدالت نے افغان طالبان کے امیر اور چیف جسٹس کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

دوسری جانب، 21 سالہ ایرانی جڑواں بہنوں ترانہ رحیمی اور رومینا رحیمی کو حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کے الزام میں بالترتیب سزائے موت اور 36 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

رواں ماہ امریکا نے عالمی فوجداری عدالت کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا تھا، جن کا مقصد عدالت کے روزمرہ امور کو مفلوج کرنا ہے، یہ عدالت جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے الزامات میں افراد کے خلاف مقدمات چلاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عدالت کو ’اینٹ سے اینٹ بجا کر‘ ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عدالت کے ججوں نے غزہ میں مبینہ جرائم کے معاملے پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp