بھارتی گینگسٹر لارنس بشنوئی کی جانب سے بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کو مسلسل دھمکیاں دینے کا معاملہ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے۔ کالے ہرن کے شکار سے متعلق پرانے تنازعے کو اس دشمنی کی بنیادی وجہ قرار دیا جاتا ہے تاہم تحقیقاتی حکام کو شبہ ہے کہ اس کے پیچھے بھتہ خوری اور جرائم کی دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے مقاصد بھی کارفرما ہوسکتے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ ایک مبینہ کارندے آلوک پنڈت نے ایک ویڈیو میں سلمان خان کو دھمکی دیتے ہوئے ان سے لارنس بشنوئی اور بشنوئی برادری سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’دونوں میاں بیوی لگتے ہیں‘، سلمان خان اور کرشمہ کپور کے بارے میں یہ رائے کیوں قائم ہوگئی؟
ویڈیو میں سلمان خان اور ان کے اہل خانہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ آلوک پنڈت نے اداکار ٹائیگر شراف پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔
سلمان خان اور لارنس بشنوئی کے درمیان تنازع کیا ہے؟
لارنس بشنوئی کی سلمان خان سے دشمنی کا پس منظر 1998 میں پیش آنے والے کالے ہرن کے شکار کے مقدمے سے جوڑا جاتا ہے۔ اس وقت سلمان خان فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے سلسلے میں راجستھان میں موجود تھے، جہاں ان پر کالے ہرن کے شکار کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
بشنوئی برادری کالے ہرن کو مقدس سمجھتی ہے اور جنگلی حیات کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دیتی ہے۔ اسی وجہ سے اس واقعے نے برادری میں شدید ردعمل پیدا کیا جبکہ لارنس بشنوئی نے بھی سلمان خان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان کو شادی کرنے سے کس نے روکا؟ اداکار نے خود ہی راز کھول دیا
اپریل 2018 میں عدالت نے سلمان خان کو اس مقدمے میں قصوروار قرار دیتے ہوئے پانچ سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ مقدمے میں شامل دیگر اداکاروں جن میں سیف علی خان، تبو، سونالی بیندرے اور نیلم کوٹھاری شامل تھیں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا گیا تھا۔
بعدازاں لارنس بشنوئی نے سلمان خان کو قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ بشنوئی برادری کے بعض نمائندوں نے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ سلمان خان معافی مانگیں اور جنگلی حیات کے تحفظ کے عزم کا اظہار کریں تو تنازع ختم کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔
کیا معاملہ صرف کالے ہرن کے شکار تک محدود ہے؟
تحقیقاتی حکام کو شبہ ہے کہ سلمان خان جیسی معروف شخصیت کو نشانہ بنانے کے پیچھے دیگر مجرمانہ مقاصد بھی ہوسکتے ہیں۔ حکام کے مطابق گینگ اداکار کی شہرت کو استعمال کرکے ممبئی میں اپنی موجودگی نمایاں کرنے، دولت مند افراد میں خوف پیدا کرنے اور مبینہ بھتہ خوری کے لیے دباؤ بڑھانے کی کوشش کرسکتا ہے۔
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی سے منسوب ایک رپورٹ میں بھی یہ مؤقف سامنے آنے کی اطلاع دی گئی کہ سلمان خان کو دھمکیاں دینے سے گینگ کو اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کی تشہیر اور فلمی شخصیات سمیت دولت مند افراد میں خوف پھیلانے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ رخ اور سلمان خان کون؟ مادھوری ڈکشٹ کے شوہر شادی میں دونوں سپر اسٹارز کو کیوں نہ پہچان سکے؟
تاہم ان ممکنہ محرکات کو تفتیشی مفروضوں کے طور پر دیکھنا چاہیے انہیں گینگ کے اصل مقصد کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
سلمان خان کو گزشتہ برسوں کے دوران متعدد دھمکیوں اور سیکیورٹی خطرات کا سامنا رہا ہے۔
2018: لارنس بشنوئی نے سلمان خان کو دھمکی دی۔ گینگ کے رکن سمپت نیہرا کو اداکار کی رہائش گاہ کے قریب مبینہ نگرانی کے معاملے میں گرفتار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان کی دبئی آمد، اداکار کی ایک جھلک کیلئے مداحوں کا سمندر اُمڈ آیا
جون 2022: سلمان خان کے والد سلیم خان کو ممبئی کے علاقے باندرہ میں چہل قدمی کے دوران ایک دھمکی آمیز خط ملا۔
اپریل 2024: سلمان خان کی باندرہ میں واقع رہائش گاہ کے باہر فائرنگ کی گئی۔ اس واقعے میں ملوث ملزمان کے روابط لارنس بشنوئی گینگ سے جوڑے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاپارازی ڈر گئے ہیں‘، سلمان خان کا ڈانٹ کے بعد فوٹوگرافرز کے لیے پوز، صارفین کے دلچسپ تبصرے
اکتوبر 2024: مہاراشٹر کے سابق وزیر اور سلمان خان کے قریبی دوست بابا صدیقی کو قتل کردیا گیا۔ لارنس بشنوئی گینگ نے سوشل میڈیا پر اس قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔
اکتوبر 2026: فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق ٹائیگر شروف پر حملے کی ذمہ داری گینگ کے مبینہ کارندے آلوک پنڈت نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا اور سلمان خان سے معافی کا مطالبہ کیا۔
لارنس بشنوئی اور سلمان خان کے درمیان تنازعے میں کالے ہرن کے شکار سے متعلق معاملہ ایک اہم تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔ تاہم، مسلسل دھمکیوں اور دیگر واقعات کے تناظر میں بھتہ خوری، مجرمانہ نیٹ ورک کی تشہیر اور خوف کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھانے کے امکانات بھی زیرِ بحث ہیں۔











