ٹرمپ کی فرانس میں بدامنی کے واقعات کو مسلمان تارکین وطن سے جوڑنے کی اشتعال انگیز کوشش

منگل 20 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں حالیہ دنوں کے دوران ہونے والے بڑے پیمانے کے پرتشدد مظاہروں، آتش زدگی اور دکانوں میں لوٹ مار کی لہر پر ردِعمل دیتے ہوئے اس تمام تر بدامنی کا ملبہ آزادانہ نقل مکانی اور تارکینِ وطن پر ڈال دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ فرانسیسی دارالحکومت پیرس بہت جلد ایک ’مسلم شہر‘ میں تبدیل ہونے جا رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ’میں نے ایمانوئل میکرون کو بہت پہلے خبردار کیا تھا کہ وہ فرانس کی سرحدیں بند کر دیں اور دنیا بھر سے لوگوں کو اپنے ملک آنے سے روکیں۔ انہوں نے بارڈر کھلے رکھ کر بہت بڑی غلطی کی، جس کا نتیجہ آج فرانس بھگت رہا ہے۔‘

فرانس میں احتجاج کی اصل وجہ اور صورتحال

اگرچہ امریکی صدر نے اس بحران کو مکمل طور پر ہجرت اور تارکینِ وطن سے جوڑا ہے، تاہم فرانس میں جاری حالیہ مظاہروں کا بنیادی محرک ملک میں بڑھتی ہوئی شدید مہنگائی، زندگی کے بھاری اخراجات، تعلیمی اداروں کے خراب حالات اور عوامی سہولیات کا فقدان ہے۔

یہ بھی پڑھیے فرانس میں بدامنی کے بعد پیرس کے 2 علاقوں میں رات کا کرفیو

حالیہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے پرتشدد تصادم میں ملک بھر میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث 2,400 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ احتجاج اور لوٹ مار سے تقریباً 3,000 دکانیں اور تجارتی مراکز متاثر ہوئے ہیں۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے قوم سے اپنے خطاب میں تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، جبکہ وزیراعظم سیبسٹین لیکورنو  نے ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے ہنگامی حالت نافذ کرنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔

ٹرمپ کے اس متنازع بیان نے بین الاقوامی سطح پر ہجرت اور فرانس کی ملکی صورتحال سے متعلق بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp