امریکی حکومت نے سرکاری اداروں کو چینی مصنوعی ذہانت کے ٹول ڈیپ سیک کے استعمال سے روک دیا۔ حساس معلومات چین منتقل ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ سافٹ ویئر سرکاری آئی ٹی آلات سے ہٹانے کی ہدایت کردی۔
امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مسابقت کے دوران امریکی حکومت نے چینی ٹیکنالوجی کمپنی ڈیپ سیک کے اے آئی ٹولز کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیپ سیک نے نیا وی فور فلیش اے پی آئی متعارف کرا دیا، کم وسائل میں زیادہ طاقتور اے آئی ماڈل کا دعویٰ
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ڈیپ سیک کی تیار کردہ مصنوعات کے علاوہ اس کی ٹیکنالوجی استعمال کرکے تیسرے فریق کی جانب سے تیار کیے گئے ٹولز بھی سرکاری اداروں کے آئی ٹی آلات سے ہٹائے جائیں۔
امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ڈیپ سیک کے اے آئی ماڈلز مختلف نوعیت کے سیکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق سرکاری ملازمین یا حکومتی ٹھیکیداروں کی جانب سے ان ٹولز کے استعمال سے حساس معلومات چین منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیپ سیک کا نیا اے آئی ماڈل وی4 متعارف، لاگت میں نمایاں کمی کا دعویٰ
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ڈیپ سیک کے سرورز چین میں واقع ہیں جہاں کا قانونی نظام حکومت کو نجی کمپنیوں کے انفراسٹرکچر تک وسیع رسائی کے اختیارات دیتا ہے۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کو وفاقی شہری اداروں کو اس حوالے سے ہدایات جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے تاہم یہ اختیار فوج اور انٹیلی جنس اداروں پر لاگو نہیں ہوتا۔ امریکی محکمہ دفاع نے اس معاملے پر اے ایف پی کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
ڈیپ سیک نے کیسے توجہ حاصل کی؟
چین کی نمایاں مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں میں شامل ڈیپ سیک نے جنوری 2025 میں کم لاگت اور اعلیٰ کارکردگی کا حامل اے آئی چیٹ بوٹ متعارف کرا کے عالمی ٹیکنالوجی انڈسٹری میں نمایاں توجہ حاصل کی تھی۔ اس پیش رفت نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکی کمپنیوں کی برتری سے متعلق تصورات کو چیلنج کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیپ سیک نے اے پی آئی سروس ٹاپ اپس کیوں معطل کی؟
کمپنی نے اپریل میں اپنا نیا اے آئی ماڈل V4 جاری کیا جبکہ رواں ماہ اس کے زیادہ تیز اور نسبتاً ہلکے ورژن کو بھی اپ ڈیٹ کیا گیا۔
امریکہ اس سے قبل ڈیپ سیک سمیت چین کی دیگر بڑی اے آئی کمپنیوں پر الزام عائد کر چکا ہے کہ وہ امریکی حریف کمپنیوں کے تیار کردہ جدید اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں منظم انداز میں حاصل کر رہی ہیں۔
دوسری جانب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں شدید مسابقت کے باوجود امریکا اور چین نے ستمبر میں اے آئی سے متعلق واقعات اور ممکنہ خطرات پر رابطے کے لیے ایک مواصلاتی چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔











