چینی اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک نے جمعہ کے روز مصنوعی ذہانت کا ایک نیا ماڈل وی4 متعارف کرا دیا ہے، جس کے اخراجات کو نمایاں حد تک کم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایک سال سے زائد عرصے بعد سامنے آئی ہے، جب کمپنی نے کم لاگت والے ریزننگ ماڈل کے ذریعے دنیا کو حیران کر دیا تھا، جو امریکی حریفوں کی صلاحیتوں کے برابر سمجھا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کمپنی ڈیپ سیک کے نئے مصنوعی ذہانت ماڈل وی 4 کی تیاری مکمل، لانچنگ کب ہوگی؟
مصنوعی ذہانت کی دوڑ نے چین اور امریکا کے درمیان مسابقت کو مزید تیز کر دیا ہے۔
اس تناظر میں وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو چینی اداروں پر مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی چوری کرنے کی بڑے پیمانے پر کوشش کا الزام بھی عائد کیا۔
🚀 DeepSeek-V4 Preview is officially live & open-sourced! Welcome to the era of cost-effective 1M context length.
🔹 DeepSeek-V4-Pro: 1.6T total / 49B active params. Performance rivaling the world's top closed-source models.
🔹 DeepSeek-V4-Flash: 284B total / 13B active params.… pic.twitter.com/n1AgwMIymu— DeepSeek (@deepseek_ai) April 24, 2026
ہانگژو میں قائم کمپنی ڈیپ سیک نے گزشتہ سال جنوری میں اپنے ریزننگ ماڈل سے چلنے والے جنریٹو اے آئی چیٹ بوٹ کے ذریعے غیر معمولی شہرت حاصل کی تھی۔
جس نے اس شعبے میں امریکی برتری کے تصور کو چیلنج کر دیا تھا۔
مزید پڑھیں: چینی چیٹ بوٹ ڈیپ سیک کس مسئلے سے دوچار ہے؟
کمپنی کے مطابق نیا ماڈل ڈیپ سیک وی4 ‘انتہائی طویل کونٹیکسٹ’ کی خصوصیت رکھتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ پر جاری بیان میں اسے دنیا کا صفِ اول ماڈل قرار دیا گیا ہے۔
جبکہ ایکس پر ایک اور اعلان میں کہا گیا کہ اس میں کمپیوٹنگ اور میموری کے اخراجات نمایاں طور پر کم کیے گئے ہیں۔














