کیا آپ رات دیر تک جاگتے ہیں؟ سائنسدانوں نے ذہنی تناؤ اور باڈی کلاک کے درمیان سنسنی خیز تعلق ڈھونڈ نکالا

بدھ 21 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سڈنی کے ماہرین نے ذہنی صحت کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے ‘سرکیڈین ڈپریشن’  کے نام سے ذہنی بیماری کی ایک نئی اور منفرد قسم دریافت کر لی ہے۔

طبی جریدے ’برٹش جرنل آف سائکائٹری‘ میں شائع ہونے والی اس اہم تحقیق میں 10,000 سے زیادہ افراد کے طبی اور جینیاتی اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا، جس سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ شدید اور مسلسل رہنے والے ڈپریشن کے تقریباً 25 فیصد (ایک چوتھائی) کیسز کی بنیادی وجہ انسان کے جسم کی اندرونی باڈی کلاک یعنی حیاتیاتی گھڑی میں پیدا ہونے والی اختلال یا خرابی ہے۔

بیماری کی علامات کی شناخت

سرکیڈین ڈپریشن کی تشخیص پانے والے مریضوں میں مخصوص علامات کی ایک واضح ترتیب دیکھی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حساس طبیعت رکھنے والے افراد میں ڈپریشن اور ذہنی بیماریوں کا خطرہ زیادہ، نئی تحقیق میں انکشاف

ان اہم علامات میں صبح بیدار ہونے پر شدید تھکن محسوس ہونا، ڈپریشن کے دوروں کے دوران معمول سے کہیں زیادہ دیر تک سونا، موسموں کی تبدیلی کے ساتھ علامات کا بدلنا اور قدرتی طور پر رات کو دیر تک جاگنے یعنی ’نائٹ اُلو‘ بننے کا شدید رجحان شامل ہے۔

سائنسدانوں نے زور دے کر کہا ہے کہ ڈپریشن ہر شخص کے لیے ایک جیسا نہیں ہوتا، اسی لیے اس کی مخصوص اور درست شناخت کرنا انتہائی ضروری ہے۔

عام اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کی ناکامی

یہ تاریخی تحقیق یہ بھی وضاحت کرتی ہے کہ آخر کیوں عام علاج اکثر اس بیماری میں بے اثر یا ناکام ثابت ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق سرکیڈین ڈپریشن کے شکار افراد میں سیروٹونن پر مبنی روایت پسند ادویات جیسے ایس ایس آر آئی ایس کا  ری ایکشن کافی کم ہوتا ہے۔

چونکہ اس بیماری کی اصل جڑ صرف سیروٹونن کی کمی نہیں بلکہ انسان کے 24 گھنٹے کے سوئے جاگنے کے حیاتیاتی نظام کی خرابی ہے اسی لیے روایتی دوائیاں مریض کو مستقل یا طویل المدتی افاقہ دینے میں ناکام رہتی ہیں۔

مزید پڑھیں:ذہنی دباؤ کے شکار والدین کی دیکھ بھال کے دوران اولاد خود بھی متاثر ہوسکتی ہے، حل کیا ہے؟

اس سنگ میل تحقیق نے مریضوں کے لیے مخصوص اور متبادل علاج کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ صرف روایتی ادویات پر منحصر رہنے کے بجائے، اب علاج کے منصوبے جسم کی اندرونی حیاتیاتی گھڑی کو دوبارہ درست اور ری سیٹ کرنے پر مرکوز کیے جا سکتے ہیں۔

ان امید افزا اقدامات میں لائٹ تھراپی، اسمارٹ واچ کے ذریعے روزمرہ کی نیند کے معمولات کی نگرانی، میلاٹونن کو ہدف بنانے والی ادویات اور ایسے منظم روئیاتی شیڈول شامل ہیں جن کا مقصد انسان کے قدرتی سرکیڈین ردھم کو دن کی قدرتی دھوپ اور روشنی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نور زمان کا بڑا اپ سیٹ، عالمی نمبر 4 کریم عبدالغواد کو ہرا کر کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے

ٹرمپ کے انتخابی جلسہ میں شرکا کی مخالفانہ نعرے بازی اور ہاتھا پائی، صدر کو خطاب روکنا پڑا

اسلام آباد میں پولیس پر حملہ، اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے زیر حراست ڈکیت زخمی

مصنوعی ذہانت کے استعمال کا معاملہ، کینیڈین پبلشر نے معروف ناول نگار سے تعلق ختم کرلیا

سائبر سیکیورٹی کے سنگین خطرات، دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس بند

ویڈیو

’روشنی ایک رات کی‘: تورڈھیر میں سوا کروڑ روپے کی لائٹس 5 برسوں سے بند، حکومتی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

تحریک انصاف مذاکرات کے لیے تیار نہیں تو زبردستی بات نہیں ہوسکتی، وفاقی وزیر مصدق ملک

خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کے منصوبوں میں کمیشن اور کرپشن کے الزامات، ہادی پتنگ کے کردار پر سوالات اٹھ گئے

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟