دنیا بھر کے شدید دائیں بازو کے سیاست دانوں نے فرانس میں ہونے والے حالیہ پرتشدد مظاہروں کا ملبہ تارکینِ وطن پر ڈال دیا ہے۔ تشدد اور امیگریشن کے درمیان کوئی واضح یا ثابت شدہ تعلق نہ ہونے کے باوجود، مختلف ممالک میں درپیش اہم انتخابات سے قبل اس کشیدہ صورتحال سے سیاسی فائدے اٹھائے جا رہے ہیں۔
معاشی مسائل اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے ان مظاہروں نے امریکا، اسپین اور اسرائیل کے ان پاپولسٹ رہنماؤں کو ایک انتخابی موضوع فراہم کر دیا ہے جنہیں جلد سیاسی و انتخابی معرکوں کا سامنا ہے۔ تاہم فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ان غیر ملکی رہنماؤں کے بیانات پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کی فرانس میں بدامنی کے واقعات کو مسلمان تارکین وطن سے جوڑنے کی اشتعال انگیز کوشش
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ فرانس پر ’تارکینِ وطن، جہادیوں اور کمیونسٹوں نے قبضہ کر کے اسے لوٹ لیا اور تباہ کر دیا ہے‘۔ دوسری جانب اسپین کی جماعت ‘ووکس’ کے سربراہ سانتیاگو اباسکال نے ’اسلامو لیفٹزم‘ (اسلامی و بائیں بازو کے اتحاد) سے خبردار کیا، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے فرانس کی صورتحال کو ’غیر ملکی یلغار‘ سے تعبیر کیا۔
علاوہ ازیں، اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے سروے میں پیش پیش فرانسیسی دائیں بازو کی رہنما مرین لے پین نے ملک کے موجودہ مسائل کی وجہ ’دہائیوں سے جاری بے لگام امیگریشن‘ کو قرار دیا ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون نے ان تمام بیانات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ’فرانس کی قیمت پر مہم چلانے والوں‘ اور ’غیر ملکی رہنماؤں سمیت دیگر شخصیات کے احمقانہ بیانات‘ کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
سیاسی تجزیہ کار پاسکل پیرینو کے مطابق، اگرچہ مہاجر پس منظر رکھنے والے افراد ان مظاہروں میں شامل تھے، لیکن وہ مظاہرین کے ایک متنوع گروہ کا محض ایک حصہ تھے۔ ان مظاہرین میں طلبہ، انقلابی کارکنان اور پرتشدد گروہ بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیے فرانس جل رہا ہے، ذمہ دار تارکین وطن، سرحدیں مکمل بند کرنا ہوں گی، صدرڈونلڈ ٹرمپ کا بیان وائرل
واضح رہے کہ ان مظاہروں کا آغاز ابتدائی طور پر اسکولوں کی ناقص صورتحال کے خلاف طلبہ کی تحریک سے ہوا تھا، جو بعد میں مہنگائی اور بنیادی اخراجاتِ زندگی میں اضافے کے خلاف ایک وسیع تر عوامی غصے میں تبدیل ہو گیا۔
سیاسی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فرانس میں سالہا سال سے جاری مظاہروں اور گہرے سماجی تقسیم کے باعث آنے والی صدارتی انتخابی مہم شدید جریدہ اور پرتشدد رخ اختیار کر سکتی ہے۔










