کیلیفورنیا کے نئے قانون کے تحت فیملی ولاگرز کے بچے بالغ ہونے پر اپنے بچپن کی آن لائن ویڈیوز ہٹانے کا مطالبہ کرسکیں گے
انٹرنیٹ پر بچپن کی ایسی تصاویر اور ویڈیوز موجود ہوں جنہیں دیکھ کر بعد میں شرمندگی محسوس ہو تو کیا انہیں مکمل طور پر ہٹایا جاسکتا ہے؟ امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں قانون میں کی گئی نئی ترمیم نے اس سوال کو دوبارہ اہم بنا دیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، نئے قانونی اقدام کے تحت فیملی ولاگرز کے بچے 18 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنے بچپن میں آن لائن شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز ہٹانے کا مطالبہ کرسکیں گے۔ والدین اور متعلقہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اس مطالبے پر عمل کرنا ہوگا۔
پروگرام میں صحافی تھامس جرمین اور جیسیکا میڈوکس نے اس معاملے کا جائزہ لیا کہ جب بچوں کی زندگی سوشل میڈیا کے لیے مواد بن جائے تو ان کی نجی زندگی اور مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پروگرام میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ یورپ میں بعض حالات میں انٹرنیٹ سے ذاتی معلومات ہٹوانے کا قانونی حق موجود ہے، جب کہ امریکا میں اس نوعیت کا حق محدود کیوں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی کمپنی کا خطرناک سائبر حملہ، اشتہار دیکھنے سے بھی موبائل اور کمپیوٹر ہیک ہونے کا خدشہ
پروگرام کے مطابق بچوں کی آن لائن نجی زندگی کے تحفظ کے لیے قوانین کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے، تاہم ان قوانین کی مخالفت بھی کی جارہی ہے اور موجودہ اقدامات کی حدود بھی زیر بحث ہیں۔
اس کے علاوہ اسمارٹ چشموں، مسلسل آواز ریکارڈ کرنے والے آلات اور مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کے ذریعے ایسے افراد کی معلومات جمع ہونے کے خدشات بھی زیر بحث آئے جنہوں نے خود کو ریکارڈ کرنے یا اپنی معلومات شیئر کرنے کی اجازت نہیں دی ہوتی۔
پروگرام میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والے اس دعوے کا بھی جائزہ لیا گیا کہ روسی ڈیٹا سینٹرز پر یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد انٹرنیٹ پر خودکار اور نقصان دہ اکاؤنٹس اچانک کم ہوگئے تھے۔ بی بی سی کے مطابق، کلاؤڈ فلیئر کے اعداد و شمار اور ادارے کے صحافیوں کی جانچ سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ انٹرنیٹ سے ایسے اکاؤنٹس غائب ہوگئے تھے۔
پروگرام میں اس واقعے کو انٹرنیٹ کے ایک ایسے نظریے سے بھی جوڑا گیا جس کے مطابق آن لائن دنیا کا بڑا حصہ خودکار اکاؤنٹس اور مصنوعی سرگرمیوں پر مشتمل ہے۔










