وفاقی آئینی عدالت نے مبینہ جعلی اسناد کی بنیاد پر ملازم رکھنے اور بغیر مجاز اتھارٹی کی اجازت کے انٹرا کورٹ اپیل واپس لیے جانے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مبینہ جعلی ڈگری ٹیچر انصر عباس اور سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ایوب بزدار کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، وفاقی آئینی عدالت میں قائم مقام چیف جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے محکمہ ایجوکیشن پنجاب کی اپیل پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم انصر عباس نے پہلے محکمہ ایجوکیشن میں انجینئرنگ کی سند جمع کرا کر ملازمت حاصل کی اور 4 سال تک بطور ٹیچر نوکری کرتا رہا۔ بعد ازاں اس نے استعفیٰ دے کر انٹرمیڈیٹ کی ڈگری کی بنیاد پر نئی ملازمت کے لیے اپلائی کیا۔ تاہم محکمانہ اسکروٹنی کے دوران اس کی اسناد میں فراڈ ثابت ہوا، جس پر محکمہ تعلیم نے اس کی نئی درخواست مسترد کر دی۔
یہ بھی پڑھیے وفاقی آئینی عدالت : بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مزید انکشاف کیا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے درخواست مسترد ہونے پر انصر عباس نے لاہور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی، جس پر عدالت نے اسے ملازمت پر رکھنے کا حکم دیا۔ محکمہ تعلیم نے اس فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی، لیکن اس وقت کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ایوب بزدار نے متعلقہ اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ہی اپیل واپس لے لی۔
سماعت کے دوران قائم مقام چیف جسٹس حسن اظہر رضوی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اہم سوالات اٹھائے۔ انہوں نے استفسار کیا ’جعلی اسناد کا معاملہ سامنے آنے پر محکمہ تعلیم نے انصر عباس کے خلاف کیا ایکشن لیا؟ 4 سال تک جعلی سند پر نوکری کرنے کے معاملے پر کیا انکوائری کی گئی؟‘
قائم مقام چیف جسٹس نے سرکاری وکلاء سے یہ بھی سوال کیا کہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بغیر اجازت لاہور ہائیکورٹ سے انٹرا کورٹ اپیل کیوں واپس لی اور کیا پنجاب حکومت نے ایوب بزدار کے خلاف کوئی قانونی یا محکمانہ کارروائی کی؟
یہ بھی پڑھیے علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کی لڑائی، وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد مبینہ جعلی ڈگری ٹیچر انصر عباس اور سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ایوب بزدار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا ہے۔










