12 اضلاع کے لیے نیا انتظامی ڈھانچہ، مگر فنڈز اور ترقیاتی منصوبوں پر ابہام برقرار

جمعرات 22 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے قائم ایریا ڈیولپمنٹ سیکرٹریٹ ( اے ڈی ایس)  میں 5 سیکریٹریز کو 34 محکموں کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں، تاہم نئے انتظامی نظام کے تحت فنڈز کے استعمال، جاری ترقیاتی منصوبوں اور اختیارات کی تقسیم سے متعلق ابہام اب بھی موجود ہیں۔

ایک طرف نئے سیکرٹریٹ کے قیام کے لیے سابق فاٹا سیکرٹریٹ پشاور میں 101 کمروں کا مطالبہ کیا گیا ہے، تو دوسری جانب وزیراعظم کے سامنے پیش کرنے کے لیے 137 ارب روپے کے فنڈز سے متعلق پریزنٹیشن تیار کی گئی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ نامزد اضلاع میں پہلے سے جاری ترقیاتی منصوبوں کا انتظام کس کے پاس رہے گا اور نئے نظام میں صوبائی محکموں کے اختیارات کی نوعیت کیا ہوگی۔

5 سیکریٹریز، 34 محکمے

جاری کردہ نوٹیفکیشنز کے مطابق ایریا ڈیولپمنٹ سیکرٹریٹ میں 5 سیکریٹریز تعینات کیے گئے ہیں، جن میں ایڈمنسٹریشن اینڈ گورننس، ایجوکیشن اینڈ سوشل سیکٹر، فنانس اینڈ پلاننگ ڈیولپمنٹ، اکنامک ڈیولپمنٹ اور سیکیورٹی کے شعبے شامل ہیں۔

سیکریٹری ایڈمنسٹریشن اینڈ گورننس کے سپرد اسٹیبلشمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن، سائنس و ٹیکنالوجی اینڈ آئی ٹی، بورڈ آف ریونیو، اطلاعات، بین الصوبائی رابطہ اور بینیولنٹ فنڈ کے محکمے کیے گئے ہیں۔

سیکریٹری ایجوکیشن اینڈ سوشل سیکٹر تعلیم، صحت، سماجی بہبود، لوکل گورنمنٹ، پاپولیشن ویلفیئر، اوقاف، حج و مذہبی امور، زکوٰۃ و عشر اور ثقافت و سیاحت سمیت متعلقہ محکموں کے امور دیکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں ڈپٹی کمشنرز کو کون سا نیا خصوصی اختیار دیدیا گیا؟

سیکریٹری فنانس اینڈ پلاننگ ڈیولپمنٹ کو خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی اور ریلیف، بحالی و آبادکاری کے محکموں کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ سیکریٹری اکنامک ڈیولپمنٹ کے دائرہ اختیار میں تعمیرات و مواصلات، زراعت، آبپاشی، صنعت، توانائی، معدنیات، ہاؤسنگ، ماحولیات، جنگلات اور دیگر معاشی و ترقیاتی شعبے شامل ہیں۔

اسی طرح سیکریٹری سیکیورٹی محکمہ داخلہ، قانون، ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کے امور دیکھیں گے، جبکہ اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز کا اضافی چارج بھی اسی شعبے کے تحت رکھا گیا ہے۔

137 ارب روپے کے مطالبے کے ساتھ فنڈز کے استعمال پر ابہام

ذرائع کے مطابق ایریا ڈیولپمنٹ سیکرٹریٹ نے اپنے دفاتر کے قیام کے لیے سابق فاٹا سیکرٹریٹ پشاور میں 101 کمروں کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے، جہاں بعض حصے خالی کرانے کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے ساتھ مجوزہ اجلاس کے لیے ایک پریزنٹیشن بھی تیار کی گئی ہے، جس میں 137 ارب روپے کے فنڈز کا مطالبہ پیش کیا جائے گا۔ تاہم اس رقم کے اجرا، استعمال اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ اس کے تعلق سے متعلق تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔ نہ ہی ابتک یہ واضح ہے کہ ان اضلاع کے لیے فنڈز کس اکاؤنٹ میں آئیگا کیونکہ خیبرپختونخوا کے اکاونٹ ون میں یہ فنڈ تو منتقل نہیں ہوسکتا۔

جاری ترقیاتی منصوبے کس کے پاس رہیں گے؟

نئے انتظامی ڈھانچے کے قیام کے باوجود صوبائی محکموں میں یہ ابہام موجود ہے کہ نامزد اضلاع میں پہلے سے جاری ترقیاتی منصوبوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ بعض منصوبے تکمیل کے قریب ہیں، لیکن ان کی نگرانی، فنڈز کے اجرا اور انتظامی منظوری کے اختیارات سے متعلق واضح طریقۂ کار سامنے نہیں آیا۔

اسی طرح صوبائی محکموں کے سیکریٹریز کو اپنے محکموں میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے یا ان کی منظوری دینے کے جو مالی اختیارات حاصل ہیں، کیا وہی اختیارات ایریا ڈیولپمنٹ سیکرٹریٹ کے متعلقہ سیکریٹریز کو بھی حاصل ہوں گے؟

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں تبدیلی آچُکی: کیا پشاور رنگ روڈ کے اہم ترقیاتی منصوبے جاری رہیں گے؟

صوبائی محکموں کے سیکریٹریز کے پاس مقررہ مالی حدود کے اندر منصوبوں کی منظوری کے اختیارات موجود ہونے کے تناظر میں یہ واضح ہونا باقی ہے کہ نئے انتظامی نظام میں ان اختیارات کی تقسیم کیسے ہوگی اور صوبائی محکموں اور ایریا ڈیولپمنٹ سیکرٹریٹ کے درمیان رابطہ کس طریقۂ کار کے تحت قائم رہے گا۔

سیاسی اور انتظامی حیثیت بھی غیر واضح

فنڈز اور ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ نامزد اضلاع کی سیاسی و انتظامی حیثیت سے متعلق بھی سوالات موجود ہیں۔ ان اضلاع کے سیاسی نمائندوں کے لیے یہ واضح ہونا باقی ہے کہ نئے نظام میں ان کا صوبائی حکومت کے ساتھ انتظامی تعلق کس نوعیت کا ہوگا، جبکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی اور مخصوص نشستوں سے متعلق معاملات بھی کنفوژن کا شکار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp