اقرار الحسن کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست مسترد

جمعرات 22 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مقامی عدالت نے معروف ٹی وی اینکر اور ڈیجیٹل میڈیا کی شخصیت سید اقرار الحسن کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی۔ سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ اول، کراچی ایسٹ، گلراز میمن نے 22 اکتوبر 2026 کو فوجداری ضمانت کی درخواست نمبر 150/2026 پر فیصلہ سنایا۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں 10 اکتوبر 2026 کو ایف آئی آر نمبر 101/2026 درج کی گئی۔ مقدمہ الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) 2016، ترمیم شدہ 2025، کی دفعات 9، 10، 20، 24 اور 26-اے کے تحت درج کیا گیا۔ ایف آئی آر ایک سورس رپورٹ کی بنیاد پر درج ہوئی، جس کے بعد انکوائری نمبر 1988/2026 شروع کی گئی۔

استغاثہ کا مؤقف

استغاثہ کے مطابق ملزم نے اپنے تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس، بشمول ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک، پر مبینہ طور پر جھوٹا، من گھڑت، ریاست مخالف اور ہتک آمیز مواد شائع کیا۔

یہ بھی پڑھیے اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں 2 روز کی توسیع، بریت کی درخواست مسترد

الزام ہے کہ اس مواد میں ریاستی اقدامات کو مسخ شدہ اور متنازع انداز میں پیش کیا گیا، ریاست مخالف جذبات کو ہوا دی گئی اور عدالتوں سے سزا یافتہ افراد کی مبینہ طور پر تعریف و توصیف کی گئی، جس سے امن عامہ کو خطرہ لاحق ہونے اور صوبے میں بدامنی پھیلنے کا اندیشہ پیدا ہوا۔

استغاثہ کے مطابق دورانِ انکوائری تینوں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ایک ایک پوسٹ یا ریل کی نشاندہی کرکے انہیں بطور ثبوت محفوظ کیا گیا۔ ملزم کے قبضے سے 4 اسمارٹ فونز اور ایک آئی پیڈ ایئر بھی برآمد کیے گئے۔

ملزم کے وکیل کے دلائل

ملزم کی جانب سے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اقرار الحسن معروف صحافی ہیں اور ان کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں۔ ان کے مطابق ایف آئی آر مبہم ہے اور اس میں کوئی مخصوص ہتک آمیز یا ریاست مخالف الفاظ نقل نہیں کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے اقرار الحسن کیس: عدالت نے جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست مسترد کر دی

وکیل نے دلائل دیے کہ پیکا کی دفعہ 10 اس مقدمے پر لاگو نہیں ہوتی، کیونکہ نہ تو کسی غیر مجاز کمپیوٹر سسٹم تک رسائی کا الزام ہے اور نہ ہی کسی کالعدم دہشتگرد تنظیم کی تعریف و توصیف کا معاملہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دفعات 9، 20، 24 اور 26-اے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(1) کی ممانعتی شق کے دائرے میں نہیں آتیں۔ تمام ڈیجیٹل آلات پہلے ہی تحقیقاتی ایجنسی کے قبضے میں ہیں، اس لیے شواہد میں مداخلت کا خدشہ نہیں۔ وکیل کے مطابق یہ مقدمہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(2) کے تحت مزید انکوائری کا متقاضی ہے، لہٰذا ملزم کو ضمانت دی جائے۔

این سی سی آئی اے کا مؤقف

این سی سی آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل طارق ارباب نے ضمانت کی مخالفت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ملزم پر پیکا کی دفعہ 10، یعنی سائبر دہشتگردی کے تحت الزام ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا 14 سال قید، 5 کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہے۔ اس لیے مقدمہ دفعہ 497(1) کی ممانعتی شق کے دائرے میں آتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملزم نے اپنی عوامی رسائی کو مبینہ طور پر جھوٹا بیانیہ پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔ مواد کو محفوظ کرنے کے لیے اسکرین شاٹس اور اسکرین ریکارڈنگ کا سہارا لیا گیا۔ ان کے مطابق تفتیش ابھی نازک مرحلے میں ہے اور سروس فراہم کرنے والے اداروں کی فرانزک رپورٹس اور نیٹ ورک لاگز کا انتظار ہے۔ ملزم کی رہائی کی صورت میں شواہد سے چھیڑ چھاڑ کا خدشہ بھی ہے۔

عدالت کے مشاہدات

عدالت نے قرار دیا کہ ضمانت کی درخواست پر فیصلہ کرتے وقت شواہد کا تفصیلی جائزہ نہیں لیا جاتا، بلکہ ابتدائی طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ملزم کے ملوث ہونے کے معقول شواہد موجود ہیں یا نہیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق پیکا کی دفعہ 10 میں زیادہ سے زیادہ 14 سال قید کی سزا مقرر ہے، اس لیے بادی النظر میں مقدمہ دفعہ 497(1) کی ممانعتی شق کے دائرے میں آتا ہے، جہاں ضمانت معمول کے بجائے استثنائی بنیادوں پر دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے اینکر پرسن اقرار الحسن کے خلاف سائبر کرائم کا مقدمہ، 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

عدالت نے کہا کہ ایف آئی آر اور ابتدائی تکنیکی رپورٹ میں تین مخصوص یو آر ایل کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ ریکارڈ شدہ مواد بظاہر ملزم کو متعلقہ مواد کی اشاعت سے جوڑتا ہے۔ عدالت کے مطابق اقرار الحسن ایک معروف ٹی وی اینکر ہیں اور ان کے بیانات کی رسائی وسیع ہے، اس لیے معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ کے ریکارڈ کے مطابق متعلقہ مواد بظاہر جائز تنقید سے آگے بڑھ کر سزا یافتہ افراد کی تعریف و توصیف کے زمرے میں آتا ہے، جس کے تناظر میں پیکا کی دفعہ 9 کا اطلاق زیرِ غور آیا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ برآمد شدہ آلات بادی النظر میں ملزم کو متعلقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے انتظامی کنٹرول سے جوڑتے ہیں۔

عدالت کے مطابق تفتیش ابتدائی اور نازک مرحلے میں ہے، اس لیے ملزم کی رہائی سے شواہد متاثر ہونے یا ڈیٹا حذف کیے جانے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے معروف اینکر اقرار الحسن گرفتار، اہلیہ نے تصدیق کردی

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت آزادیٔ اظہار بنیادی حق ہے، تاہم یہ ملکی سالمیت، سلامتی، امن عامہ اور شائستگی سمیت آئین میں بیان کردہ بنیادوں پر معقول پابندیوں سے مشروط ہے۔ عدالت نے ملزم کے وکیل کی جانب سے پیش کردہ عدالتی نظیروں کو مقدمے کے حقائق اور حالات سے مختلف قرار دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کے خلاف ایسے جرائم میں ملوث ہونے کے معقول شواہد موجود ہیں جو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(1) کی ممانعتی شق کے دائرے میں آتے ہیں، چنانچہ ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

عدالت نے واضح کیا کہ فیصلے میں دیے گئے تمام مشاہدات عارضی نوعیت کے ہیں اور انہیں مقدمے کی باقاعدہ سماعت کے دوران ملزم کے حقوق یا دفاع پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نئی آٹو پالیسی: پیٹرول گاڑیاں 10 فیصد، پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں 20 فیصد سے زائد سستی ہونے کا امکان

پی آئی اے کے نئے یونیفارم معروف ڈیزائنر حسن شہریار یاسین تیار کریں گے

جعلی ڈگری کیس: سپریم کورٹ نے جمشید دستی کی ضمانت میں 4 نومبر تک توسیع کردی

لینڈنگ سے چند لمحے پہلے طیارے پر بجلی گر گئی، مسافر نے منظر کیمرے میں محفوظ کرلیا

اسلام آباد کی اہم شاہراہوں پر ایک بار پھر ٹریفک ڈائیورشنز کا اعلان

ویڈیو

پاکستان میں نئے صوبوں اور بااختیار بلدیاتی نظام پر قومی بحث کی ضرورت ہے، نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ میں شرکاء کا اظہار خیال

سعودی اور پاکستانی ڈیولپرز متحد، ریئل اسٹیٹ میں بڑی سرمایہ کاری کی راہ ہموار

’روشنی ایک رات کی‘: تورڈھیر میں سوا کروڑ روپے کی لائٹس 5 برسوں سے بند، حکومتی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟