ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ شرقی کراچی نے عوام راج پارٹی کے سربراہ اور معروف اینکر پرسن اقرار الحسن کے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ کے خلاف دائر کردہ کرمنل رویژن درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اکیلا سب کچھ نہیں کرسکتا، سعد رفیق، حدیقہ کیانی سمیت صاف لوگوں کو پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں، اقرار الحسن
سیشن جج ارشد مرتضیٰ کی عدالت میں سماعت کے دوران اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ اور شاہد حسین کریجو نے موقف اختیار کیا کہ اقرار الحسن کو 12 اکتوبر کی رات لاہور میں واقع ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔
حراست کا طریقہ کار
وکیل نے مؤقف اپنایا کہ گرفتاری اور ریمانڈ کا طریقہ کار مشکوک تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا لاہور سے گرفتاری کے لیے پنجاب کے محکمہ داخلہ سے اجازت یا راہداری ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا؟
ایف آئی آر اور الزامات
سورس رپورٹ کی بنیاد پر پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ وکیل نے کہا کہ اقرار الحسن نے سیاسی حالات اور ایمرجنسی/گورنر راج کے موضوع پر رائے دی جو کہ آئین کے مطابق ہر شہری کا حق ہے۔
مزید پڑھیں: کیا اقرارالحسن کے بعد شاہد آفریدی بھی سیاسی میدان میں قدم رکھنے والے ہیں؟ سابق کپتان نے خود بتا دیا
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تفتیشی افسر رانا فیصل گرفتاری کے وقت خود لاہور گئے ہی نہیں تھے اور ان کا سی ڈی آر نکالنے کا مطالبہ کیا۔
اہلیہ کا عدالت میں بیان
دفاعی وکیل نے کہا کہ موبائل اور دیگر ڈیوائسز پہلے ہی این سی سی آئی اے کے پاس موجود ہیں، اس لیے گواہوں کے بیانات یا تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ ضروری نہیں اور اقرار الحسن کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے۔
سماعت کے دوران عدالت نے اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار کو بھی روسٹرم پر بلایا جنہوں نے گرفتاری کے وقت کے حالات اور تفتیشی افسر کی عدم موجودگی سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا۔
این سی سی آئی اے اور تفتیشی افسر کا مؤقف
تفتیشی افسر انسپکٹر رانا محمد فیصل خان عدالت میں پیش ہوئے اور ریمانڈ کے خلاف درخواست کی مخالفت کی۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اقرار الحسن کے قبضے سے 5 الیکٹرانک ڈیوائسز (4 موبائل فون اور ایک آئی پیڈ) برآمد کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان ڈیوائسز اور ڈیٹا کا تجزیہ کیا جا رہا ہے لہٰذا منصفانہ تفتیش کی تکمیل کے لیے پولیس تحویل (جسمانی ریمانڈ) قانونی طور پر ضروری ہے۔
عدالت کا فیصلہ
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ارشد مرتضیٰ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست مسترد کر دی۔
عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ (لنک جج) کی جانب سے دیا گیا 4 روزہ پولیس کسٹڈی ریمانڈ خلافِ قانون یا حد سے زیادہ نہیں ہے۔
حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ آزادی اظہار رائے (آرٹیکل 19) آئین و قانون کے تحت عائد کردہ معقول پابندیوں کے تابع ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کو قانونی طریقے سے عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کے وکیل و اہلخانہ کو ملاقات کی اجازت دی گئی۔
اس فیصلے کے بعد اقرار الحسن این سی سی آئی اے کی تحویل میں 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر رہیں گے اور انہیں 17 اکتوبر 2026 کو متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں دوبارہ پیش کیا جائے گا۔













