پاکستان کی مجوزہ آٹو پالیسی 2026 تا 2031 کے تحت مختلف اقسام کی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے، تاہم بعض گاڑیاں مہنگی بھی ہوسکتی ہیں۔
ابتدائی صنعتی تخمینوں میں روایتی پیٹرول گاڑیوں کی قیمتوں میں 8 سے 10 فیصد، عام ہائبرڈ گاڑیوں میں قریباً 9 فیصد جبکہ پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں میں 20 فیصد سے زیادہ کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 15 ہزار ڈالر سے کم درآمدی مالیت والی بیٹری الیکٹرک گاڑیاں قریباً 22 فیصد سستی ہوسکتی ہیں، جبکہ زیادہ قیمت والی برقی گاڑیوں کی قیمتوں میں قریباً 8 فیصد کمی متوقع ہے۔ اس کے برعکس رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں قریباً 3 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
مجوزہ پالیسی میں برقی گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس ایک فیصد برقرار رکھنے، پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر 9 فیصد اور رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 6 فیصد ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ مقامی طور پر تیار ہونے والے گاڑیوں کے پرزہ جات پر محصولات بھی مالی سال 2031 تک 25 سے کم کرکے 15 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
مزید پڑھیں:نئی آٹو پالیسی پر حکومت میں اتفاق رائے، سی کے ڈی ڈیوٹی میں کمی اور ایف ای ڈی بڑھانے کی تجویز
تاہم یہ قیمتوں میں کمی کے ابتدائی تخمینے ہیں، حتمی یا نافذ شدہ قیمتیں نہیں۔ پالیسی کی منظوری اور اس پر عمل درآمد کے بعد ہی گاڑیوں کی قیمتوں میں حقیقی تبدیلی واضح ہوگی۔










