پاکستان کے جنوب مغرب میں واقع صوبہ بلوچستان گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران مختلف اوقات میں دہشت گردی، مسلح حملوں اور بدامنی کا شکار رہا ہے۔ صوبے میں سیکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات، قومی شاہراہوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جبکہ امن و امان کی بحالی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
اس صورتحال میں صوبائی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران دہشتگردی کے خلاف 60 ہزار سے زیادہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کیے گئے، 14 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی اور متعدد قانونی و انتظامی اقدامات اٹھائے گئے۔
مزید پڑھیں: ریاست دہشتگردی کے خاتمے اور عوام کے تحفظ کے لیے پوری قوت سے موجود ہے، معاون برائے داخلہ بلوچستان
کوئٹہ میں بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری حمزہ شفقات نے بتایا کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران کیے گئے آپریشنز میں 1100 مبینہ عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ 550 کو گرفتار کیا گیا۔
حمزہ شفقات کے مطابق شدت پسندی کے واقعات میں 551 شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے 300 سے زیادہ افسران اور اہلکار بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 1400 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے، جبکہ مبینہ سہولت کاروں کے 300 خاندانوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کوئٹہ سے لورالائی جانے والی قومی شاہراہ پر سیکیورٹی فورسز کے 32 مشترکہ مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن کے قیام کے بعد گزشتہ 2 برسوں کے دوران اس شاہراہ پر کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ان کے مطابق کوئٹہ کراچی شاہراہ کے سیکشن پر بھی آئندہ 4 ماہ کے دوران اسی نوعیت کے سکیورٹی مراکز قائم کیے جائیں گے۔
صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ بلوچستان حکومت نے گزشتہ 2 برسوں میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات پر 14 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی، جبکہ اس عرصے کے دوران مختلف نوعیت کے 60 ہزار سے زیادہ آپریشنز کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے 18 نئے قوانین منظور کیے ہیں، جبکہ 17 نئے محکمے بھی قائم کیے گئے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور انسدادِ دہشتگردی کے اقدامات کے ساتھ ساتھ صوبے میں فیس لیس عدالتیں بھی قائم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سیف سٹی منصوبوں، فرانزک ایجنسی، کوئٹہ سیکیورٹی بورڈ اور نگرانی کے لیے نئے کیمروں کی تنصیب پر بھی کام جاری ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ نے اعتراف کیاکہ بلوچستان میں دہشتگردی اور بدامنی کے واقعات پیش آ رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت سیاسی محاذ آرائی میں الجھنے کے بجائے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، بھارتی سرپرستی میں سرگرم 19 دہشتگرد ہلاک، حوالدار شہید
تجزیہ کاروں کے مطابق حکومتی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال میں کس حد تک بہتری آئی ہے۔
’دہشتگردی کے خلاف حکمت عملی کی کامیابی کا جائزہ لینے کے لیے محض آپریشنز، گرفتاریوں اور ہلاکتوں کی تعداد کافی نہیں، بلکہ دہشتگرد حملوں میں کمی، شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کا تحفظ، مغویوں کی بازیابی، قومی شاہراہوں پر محفوظ آمدورفت اور متاثرہ علاقوں میں معمولاتِ زندگی کی بحالی بھی کامیابی جانچنے کے بنیادی پیمانے ہیں۔‘










