ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں 7 تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے 4 میں آگ لگ گئی جبکہ 3 بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر ناکارہ ہوگئے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں مدد جاری رکھی تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ 4 جہازوں پر حملے کے وقت ان سے تیل منتقل کیا جا رہا تھا اور وہ آگ کی لپیٹ میں آگئے، جبکہ دیگر 3 جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے باعث ناکارہ ہوئے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی اور ممکنہ جانی نقصان یا جہازوں کے پرچم سے متعلق تفصیلات بھی سامنے نہیں آئیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اگر موجودہ صورت حال جاری رہی تو تنازع خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں تک پھیل سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے اہم بحری راستہ ہے، جہاں سے جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی رسد گزرتی تھی۔
Iran's IRGC Navy says seven vessels hit, warns US of wider response https://t.co/1VSzt2WB9u https://t.co/1VSzt2WB9u
— Reuters (@Reuters) October 22, 2026
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز سے اب جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیل گزر رہا ہے اور جہازوں پر حملوں اور بارودی سرنگوں سے متعلق دعوے من گھڑت ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک ترجمان نے بھی بارودی سرنگوں سے متعلق ایرانی دعوؤں کو غلط قرار دیا۔ ترجمان کے مطابق امریکی فوج نے بین الاقوامی بحری راستوں سے بارودی سرنگیں صاف کردی ہیں، جبکہ ایران میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور 95 فیصد جہاز اس سے گزر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا ایران سے ڈیل کے لیے خفیہ رابطہ، پاسداران انقلاب کو براہِ راست پیغام پہنچایا گیا، فوکس نیوز کا دعویٰ
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے اور روزمرہ اخراجات بڑھنے پر امریکا میں تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگ کے اخراجات پر بھی سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔










