ورزش کے بعد دل کی دھڑکن معمول پر آنے کی رفتار کسی شخص کی قلبی صحت اور مستقبل میں بیماریوں کے خطرے سے متعلق اہم معلومات فراہم کرسکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس رفتار میں غیر معمولی کمی دل کی بیماریوں سمیت دیگر صحت کے مسائل کی ابتدائی علامت ہوسکتی ہے۔
مزید پڑھیں:بچوں میں کینسر کی علامات کو نظرانداز نہ کریں، کن نشانیوں پر والدین کو خبردار ہوجانا چاہیے؟
دل کی دھڑکن کی بحالی کی رفتار کو طبی اصطلاح میں ’ہارٹ ریٹ ریکوری‘ کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ورزش ختم کرنے کے فوراً بعد دل کی دھڑکن اور ایک منٹ آرام کے بعد دھڑکن کے درمیان فرق ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ پیمانہ کسی شخص کی مجموعی صحت اور موت کے خطرے سے بھی تعلق رکھتا ہے۔
رپورٹ میں 1999 میں کلیولینڈ کلینک کے محققین کی ایک تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں قریباً 2 ہزار 400 افراد کی دل کی دھڑکن کی بحالی کا جائزہ لیا گیا اور 6 برس تک ان کی صحت کا مشاہدہ کیا گیا۔ نتائج کے مطابق جن افراد کی دل کی دھڑکن ورزش کے بعد معمول پر آنے کی رفتار کم تھی، ان میں تحقیق کے دوران موت کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں قریباً 4 گنا زیادہ پایا گیا۔ بعد کی تحقیقات میں بھی اس تعلق کی تائید ہوئی ہے۔
دل کی دھڑکن کی بحالی کیسے جانچیں؟
ورزش کے بعد دل کی دھڑکن کی بحالی جانچنے کے لیے اسمارٹ واچ یا نبض گننے کا طریقہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے پہلے ورزش کے فوراً بعد دل کی دھڑکن نوٹ کریں، پھر ایک منٹ آرام کرنے کے بعد دوبارہ دھڑکن گنیں۔ پہلی اور دوسری پیمائش کے درمیان فرق آپ کی ایک منٹ کی بحالی کی رفتار ظاہر کرتا ہے۔
مثال کے طور پر، اگر ورزش کے فوراً بعد دل کی دھڑکن 150 فی منٹ ہو اور ایک منٹ بعد 130 رہ جائے تو بحالی کی رفتار 20 دھڑکن فی منٹ ہوگی۔
پہلے ایک منٹ میں دل کی دھڑکن کا کم از کم 18 دھڑکنیں کم ہونا ایک اچھا اشارہ سمجھا جاسکتا ہے، جبکہ 12 سے کم دھڑکنوں کی کمی صحت کے ممکنہ مسائل کی طرف توجہ دلا سکتی ہے۔ تاہم نتائج کا انحصار عمر، جسمانی فٹنس، ورزش کی نوعیت اور پیمائش کے طریقے پر بھی ہوتا ہے۔ اس لیے ان اعداد کو کسی بیماری کی حتمی تشخیص نہیں سمجھنا چاہیے۔
دل کی دھڑکن جلد معمول پر کیوں آتی ہے؟
ماہرین کے مطابق اس عمل میں اعصابی نظام کا اہم کردار ہے۔ ورزش کے دوران جسم کا ہمدرد اعصابی نظام متحرک ہوجاتا ہے، جس سے دل تیزی سے دھڑکتا ہے اور پٹھوں تک آکسیجن کی فراہمی بڑھ جاتی ہے۔ ورزش رکنے کے بعد پیراسیمپیتھیٹک اعصابی نظام، خصوصاً ویگس عصب، دل کی دھڑکن کو کم کرکے جسم کو آرام کی حالت میں لانے میں مدد دیتا ہے۔
How effective are quick workouts? ⏱️
A super-sized UK study (73,485 UK Biobank participants ) found that just 60 seconds of vigorous effort offered similar longevity benefits to 93 minutes of low-intensity exercise.
Yes, even a minute of intense movement reduced the risk of:
❤️ Early death
❤️ Heart attacks
❤️ Type 2 diabetesThat’s the kind of return on investment you don’t ignore. 📈
Action Plan:
Pick one moment to move with intention today. Whether it’s the stairs, a brisk uphill walk, or a 60-second sprint. Your heart will remember it. ⚡
Biswas, R. K., & Stamatakis, E. et al. (2025). Wearable device-based health equivalence of different physical activity intensities. Nature Communications.
#HeartHealth
#Fitness— Kristie Leong M.D. (@DrKristieLeong) August 5, 2026
جسمانی فٹنس بہتر ہونے کے ساتھ اعصابی نظام کی یہ تبدیلی زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے۔ اسی لیے دل کی دھڑکن کا ورزش کے بعد نسبتاً تیزی سے کم ہونا قلبی صحت کا ایک مفید اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
معمول کی ورزش سے بہتری ممکن ہے
باقاعدہ جسمانی سرگرمی دل کی دھڑکن کی بحالی بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ماہرین تیز قدموں سے چہل قدمی، سائیکل چلانے، تیراکی اور جسمانی استعداد کے مطابق دوڑنے جیسی سرگرمیوں کی سفارش کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:ورزش کے بعد دل کی دھڑکن کتنی جلد معمول پر آتی ہے؟ ایک آسان ٹیسٹ خطرات سے آگاہ کرسکتا ہے
تاہم دل کے پہلے سے مریض افراد طبی نگرانی کے بغیر یہ ٹیسٹ کرنے کے لیے سخت ورزش نہ کریں۔ ورزش کے دوران سینے میں درد، چکر آنے یا معمول سے زیادہ سانس پھولنے کی صورت میں فوراً رک کر طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔ اگر دل کی دھڑکن معمول پر آنے کی رفتار مسلسل کم ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرکے مکمل قلبی معائنہ کرانا چاہیے۔










