’سرپرائز‘ کے نام پر موت کا بلاوا، بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو قتل کردیا

جمعہ 23 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گجرات کے گاؤں روپیری میں پیش آنے والے سفاکانہ قتل کیس میں ایک سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں بیرون ملک سے آئے سگے بڑے بھائی نے وراثتی جائیداد کی رنجش پر اپنے ہی چھوٹے بھائی کو قتل کر دیا اور مظلوم بن کر جنازے میں شریک ہوا۔ تاہم پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزم کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر کے اسے گرفتار کر لیا ہے۔

سرپرائز ملنے کا جھانسہ اور واردات

ڈی پی او گجرات فیصل شہزاد اور ایس ایچ او دولت نگر احسان لطیف کے مطابق، 17 اکتوبر کو 24 سالہ محمد سفیان کو اپنے بڑے بھائی محمد بلال کی واٹس ایپ کال موصول ہوئی، جس میں اس نے ‘سرپرائز’ دینے کا بہانا بنا کر سفیان کو گجرات شہر طلب کیا۔

سفیان اپنے بھائی سے ملا، دونوں نے اکٹھے کھانا کھایا اور شام کے وقت موٹر سائیکل پر واپس روانہ ہوئے۔

دریکڑی روڈ کے ویران علاقے میں ملزم بلال نے رفع حاجت کے بہانے موٹر سائیکل رکوائی اور موقع ملتے ہی چھری کے وار سے اپنے چھوٹے بھائی کا گلا کاٹ کر لاش سڑک کنارے پھینک دی۔ واردات کو ڈکیتی کی شکل دینے کے لیے ملزم مقتول کا موبائل اور موٹر سائیکل بھی ساتھ لے گیا۔

بیرون ملک سے آمد کا جھوٹا ڈرامہ

واردات کے بعد ملزم لاہور فرار ہو گیا اور اہل خانہ کو فون کر کے بھائی کے قتل سے بے خبری کا ڈرامہ رچایا۔ اس نے گھر والوں کو ہدایت کی کہ اس کے ’بیرون ملک سے واپس پہنچنے تک‘ تدفین نہ کی جائے، حالانکہ وہ پہلے ہی پاکستان میں موجود تھا۔ اگلی صبح (18 اکتوبر) وہ گاؤں پہنچا اور سب کے سامنے رو دھو کر ہمدردیاں حاصل کرتا رہا، تاکہ کسی کو اس پر شک نہ ہو۔

مقتول سفیان

پولیس نے ملزم کو کیسے سراغ لگایا؟

تھانہ دولت نگر پولیس نے واقعے کی تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی اور سیف سٹی کیمروں کا ریکارڈ چیک کیا۔ کیمروں کی فلم سے معلوم ہوا کہ مقتول سفیان نے گجرات کے میجر عزیز بھٹی شہید اسپتال کے باہر بلال کا انتظار کیا۔ دونوں نے ریستوران میں کھانا کھایا اور موٹر سائیکل پر روانہ ہوئے۔ واپسی پر صرف بلال اکیلا موٹر سائیکل چلاتا ہوا دکھائی دیا۔ موقعِ واردات سے ملنے والی چھری سے ملزم بلال کے فنگر پرنٹس بھی میچ ہو گئے۔

قتل کے پیچھے کیا وجہ تھی؟

مقتول اور ملزم کے والد خالد محمود کے مطابق، دونوں بھائیوں میں 4 مرلے کے مکان کی وراثت کا تنازع تھا۔ والد نے بلال کو گاؤں سے باہر 18 مرلے زرعی زمین دے کر مکان کا حصہ ختم کر دیا تھا، مگر بلال کا خیال تھا کہ اس کا چھوٹا بھائی سفیان اس کی حق تلفی کروا رہا ہے۔ اسی رنجش کی بنا پر اس نے یہ ہولناک قدم اٹھایا۔

دورانِ تفتیش ملزم بلال نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ عدالت نے ملزم کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے، جبکہ والد کا کہنا ہے کہ اس اندوہناک واقعے نے ان کی دنیا اجاڑ دی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp