بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پھٹے ہوئے 10 روپے کے نوٹ پر مبینہ طور پر تھپڑ مارے جانے کے واقعے کے بعد آن لائن ڈیلیوری ورکر سمیر حسین نے زہر کھا لیا، جس کے نتیجے میں وہ دورانِ علاج دم توڑ گیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے ملزم کے خلاف خودکشی پر اکسانے سے متعلق دفعہ کے تحت مقدمے میں کارروائی شامل کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق فلپ کارٹ منٹس سے وابستہ 23 سالہ سمیر حسین 4 اکتوبر کی رات تقریباً ساڑھے 10 بجے مشرقی دہلی کے علاقے ونود نگر میں کافی کا آرڈر پہنچانے گیا تھا، جس کی قیمت تقریباً 150 روپے تھی۔ سمیر کے مطابق گاہک رام پال سنگھ نے رقم کا انتظام کرنے میں تقریباً 15 منٹ لگائے، تاہم جب اس نے پھٹا ہوا 10 روپے کا نوٹ لینے سے انکار کرتے ہوئے دوسرا نوٹ دینے کی درخواست کی تو گاہک نے مبینہ طور پر بدتمیزی کی اور اسے 3 تھپڑ مارے۔
A Flipkart delivery boy named Sameer died after consuming pesticide following a public slap by a customer after he refused to accept a torn ₹10 note for a COD order. pic.twitter.com/vgQwUaTfbT
— 🚨Indian Gems (@IndianGems_) October 21, 2026
سمیر نے زہر پینے سے پہلے بنائی گئی ویڈیو میں کہا کہ اس نے گاہک کے رویے کے باوجود جوابی کارروائی نہیں کی، لیکن غربت کی وجہ سے تضحیک نے اسے شدید ذہنی اذیت پہنچائی۔ اس نے سوال کیا کہ کیا غریب ہونا توہین ہے؟ سمیر سائیکل پر سامان پہنچاتا تھا اور اپنے محنت کے پیسوں سے گزارا کرنے پر فخر کرتا تھا۔
سمیر نے 5 اکتوبر کو زہر پیا، جس کے بعد اسے لال بہادر شاستری اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ 20 اکتوبر کو دورانِ علاج چل بسا۔ اس کی والدہ کلیمہ نے الزام لگایا کہ ملزم کے سیاسی روابط ہیں اور اسے انصاف نہ ملنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کے اہم اپوزیشن سیاست دان نے پارٹی دفتر میں مبینہ خود کشی کرلی
پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 108، جو خودکشی پر اکسانے سے متعلق ہے، شامل کرکے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ملزم کے خلاف الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین تحقیقات کے بعد ہوگا۔










