قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے کراچی میں 13 سالہ لڑکی کو ایک مشتبہ آن لائن گروپ سے بازیاب کرا لیا، جہاں مبینہ طور پر اسے پہلے بلی کو زہر دینے اور پھر خود کو شدید نقصان پہنچانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق بین الاقوامی ادارے کی جانب سے مشکوک آن لائن سرگرمیوں کی اطلاع اور انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریسز ملنے کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں۔ تفتیش کے دوران پاکستانی آئی پی ایڈریس کا سراغ لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ اس سے منسلک لڑکی ملزم نہیں بلکہ خود اس آن لائن گروپ کا نشانہ بنی ہوئی تھی۔ ایجنسی نے لڑکی کو خود کو نقصان پہنچانے کی ہدایت پر عمل کرنے سے پہلے تلاش کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا ڈرائیونگ لائسنس ڈارک ویب پر دستیاب، کینیڈا و امریکا کے کروڑوں شہری نشانے پر
میڈیا رپورٹس کے مطابق لڑکی کو مبینہ طور پر پہلے ایک بلی کو زہر دینے کا ٹاسک دیا گیا، جس کے نتیجے میں بلی ہلاک ہوگئی۔ بعد ازاں اسے خود کو شدید نقصان پہنچانے کی ہدایت دی گئی، تاہم حکام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے بچالیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والدین اس کی آن لائن سرگرمیوں سے لاعلم تھے۔ ان کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران بیٹی کے رویے میں تبدیلی آئی تھی، لیکن وہ اس کا تعلق انٹرنیٹ پر ہونے والی سرگرمیوں سے نہیں جوڑ سکے۔ ایجنسی نے والدین کو صورت حال اور ممکنہ خطرات سے آگاہ کردیا ہے۔
حکام کے مطابق مشتبہ آن لائن گروپ چلانے والوں اور لڑکی سے رابطے کے لیے استعمال ہونے والے اکاؤنٹس کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا پاکستان میں دیگر بچوں کو بھی اسی نوعیت کی سرگرمیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاحال کسی گرفتاری کا اعلان نہیں کیا گیا۔











