30 سال کام کے جنون میں کیا کھو بیٹھے؟ عامر خان ماضی یاد کرکے آبدیدہ ہوگئے

جمعہ 23 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان سنگاپور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے دوران اپنی زندگی اور کیریئر کے ماضی کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ اداکار نے اعتراف کیا کہ کام کے جنون میں انہوں نے اپنی زندگی کے تقریباً 30 سال اس قدر مصروفیت میں گزار دیے کہ خاندان کو مناسب وقت نہ دے سکے۔

فیسٹیول کے دوران گفتگو کرتے ہوئے عامر خان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کام کو ہمیشہ ترجیح دینے کے باعث وہ زندگی کے کئی اہم لمحات سے محروم رہے۔

عامر خان نے کہا کہ ’ایک یا دو سال، بلکہ پانچ سال تک اپنے کام میں پوری طرح ڈوب کر جنون کی حد تک کام کرنا ٹھیک ہے لیکن اگر یہی سلسلہ 30 سال تک جاری رہے تو آپ اپنے رشتے کھو بیٹھتے ہیں۔ آپ کے بچے بڑے ہو کر بالغ ہو جاتے ہیں۔ اس لیے مجھے زندگی میں بہت کچھ کھو دینے کا گہرا احساس ہوا۔‘

یہ کہتے ہوئے عامر خان جذبات پر قابو نہ رکھ سکے، آنکھوں سے آنسو پونچھے اور گفتگو جاری رکھنے سے پہلے حاضرین سے معذرت کی۔ اس موقع پر موجود افراد نے تالیاں بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔

یہ بھی پڑھیں: عامر خان نے ثروت گیلانی سے معین اختر کے پروگرام کی تمام اقساط کیوں مانگیں؟ اداکارہ کا اہم انکشاف

اداکار کے مطابق اس احساس نے انہیں اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران انہوں نے جان بوجھ کر اپنے خاندان اور قریبی دوستوں کے لیے زیادہ وقت نکالنا شروع کیا ہے۔

عامر خان نے کہا، ’مجھے خوشی ہے کہ یہ خیال مجھے 56 سال کی عمر میں آیا، نہ کہ 86 سال کی عمر میں جب شاید کچھ کرنے کے لیے بہت دیر ہو چکی ہوتی۔‘

اداکار نے اپنے ابتدائی کیریئر کی ایک مشکل صورتِ حال کا بھی ذکر کیا، جس نے انہیں ذہنی اور جذباتی طور پر متاثر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’محبت اور مہمان نوازی کبھی نہیں بھولوں گا‘،باکسر عامر خان کا پاکستان کے نام محبت بھرا پیغام

1988 میں فلم قیامت سے قیامت تک کی کامیابی کے بعد عامر خان نے صرف چھ ماہ کے دوران نو فلمیں سائن کر لی تھیں۔ بعد میں انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے ضرورت سے زیادہ منصوبوں کی ذمہ داری لے لی ہے جس کے نتیجے میں ان کی کئی فلمیں باکس آفس پر ناکام ہونے لگیں۔

عامر خان نے یاد کیا کہ وہ روتے ہوئے گھر واپس آئے اور اپنی اس وقت کی اہلیہ رینا دتہ سے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ مسلسل فلمیں ناکام ہونے کے بعد انہیں ’ون فلم ونڈر‘ کہا جانے لگا یعنی ایسا اداکار جسے صرف ایک فلم کی کامیابی حاصل ہوئی ہو۔

یہ بھی پڑھیں: 3 ماہ تک نایاب پتھر کی تلاش، عامر خان نے گوری سپراٹ کو شادی میں کتنی قیمتی انگوٹھی دی؟

انہوں نے کہا، ’اس وقت ذہنی اور جذباتی طور پر مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں دلدل میں دھنس رہا ہوں۔ میں جتنا باہر نکلنے کی کوشش کرتا، اتنا ہی مزید گہرائی میں چلا جاتا۔‘

عامر خان نے اپنی مقبول فلم تھری ایڈیٹس کے ممکنہ سیکوئل کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت بتائی۔ 2009 میں ریلیز ہونے والی اس کامیڈی فلم کی ہدایت کاری راج کمار ہیرانی نے کی تھی۔ فلم میں عامر خان کے ساتھ آر مادھون، شرمن جوشی اور کرینہ کپور خان نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ یہ فلم ہندی سینما کی مقبول ترین کالج پر مبنی کامیڈی فلموں میں شمار ہوتی ہے۔

عامر خان نے بتایا کہ راج کمار ہیرانی سیکوئل کے اسکرپٹ پر کام کر رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں واپسی پر وہ اسکرپٹ کا حتمی مسودہ سن سکیں گے۔

انہوں نے کہا، ’میرے خیال میں میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ہاں، راجو اسکرپٹ پر کام کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ جب میں اگلے دو ہفتوں میں واپس آؤں گا تو وہ مجھے اس کا حتمی مسودہ سنائیں گے۔ اب بس دعا ہے کہ سب کچھ اچھا ہو۔‘

سنگاپور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں عامر خان کو اسکرین آئیکون ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے فلم ساز پیٹر چن ہو سن نے پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں: لگان کے 25 سال مکمل ہونے پر فلم کے اہم کردار کے عامر خان سے متعلق حیران کن انکشافات

ایوارڈ وصول کرنے کے بعد عامر خان نے فیسٹیول انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پیٹر چن کے ہاتھوں یہ اعزاز ملنا ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’فلم سازی ایک اجتماعی فن ہے اور بہت سے لوگ ایک دوسرے کے کام میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ ‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp