لاہور میں 12 سے 14 مارچ 2027 تک بسنت منانے کی باضابطہ اجازت، شرائط اور پابندیاں عائد

جمعہ 23 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے مارچ 2027 میں 3 روزہ بسنت منانے کی باضابطہ اجازت دے دی، جس کے تحت لاہور میں 12 سے 14 مارچ تک پتنگ بازی کی جا سکے گی، تاہم اس کے لیے مختلف شرائط اور پابندیاں مقرر کی گئی ہیں۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے جمعہ کو نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ بسنت کے دوران پتنگ بازی کی اجازت مقررہ مقامات پر اور منظور شدہ سامان کے استعمال سے مشروط ہوگی، جبکہ مخصوص ممنوعہ علاقوں میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 12 سے 14 مارچ 2027 تک بسنت، چھتوں پر حفاظتی دیواریں بنانا لازم قرار

نوٹیفکیشن کے مطابق پتنگ بازی کے لیے منظور شدہ سامان کی تیاری 5 ستمبر 2026 سے 14 مارچ 2027 تک کی جا سکے گی، تاہم اس کے لیے حکومت کی ای بز ایپلی کیشن کے ذریعے ڈیجیٹل رجسٹریشن لازمی ہوگی۔ سامان کی خریداری، نقل و حمل اور ذخیرہ کرنے کی اجازت یکم فروری سے 14 مارچ 2027 تک ہوگی، جبکہ عام شہریوں کو سامان فروخت کرنے کی اجازت 10 فروری سے 14 مارچ تک صرف رجسٹرڈ دکانداروں کو ہوگی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی کارخانہ دار، تاجر یا فروخت کنندہ ڈپٹی کمشنر کے پاس رجسٹریشن کے بغیر پتنگ بازی کا منظور شدہ سامان تیار، ذخیرہ، فروخت یا اس کی تجارت نہیں کرسکے گا۔

پتنگ کے سائز کے حوالے سے بھی پابندیاں مقرر کی گئی ہیں۔ عام پتنگ کی چوڑائی ساڑھے 4 گِٹھی سے زیادہ نہیں ہوگی، جبکہ اس کی چوڑائی 35 انچ اور لمبائی 30 انچ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ بڑی پتنگ، جسے گڈا کہا جاتا ہے، اس کی حد ڈیڑھ توا مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس کی چوڑائی 40 انچ اور لمبائی 34 انچ سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب بھر میں آئندہ سال مارچ میں بسنت منانے کا فیصلہ

پتنگ کی ڈور صرف پِنّے کی شکل میں لپیٹنے کی اجازت ہوگی۔ ڈور سوتی دھاگے سے تیار کی جائے گی، جس میں زیادہ سے زیادہ 9 تار ہوں گے اور دھاگے کی گنتی 28 سے کم نہیں ہوگی۔ ڈور پر استعمال ہونے والے مانجھے میں شیشے کا پاؤڈر کم از کم 350 میش کا ہونا ضروری ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ڈور یا مانجھا تیار کرنے اور اس پر تہہ چڑھانے کے لیے صرف مایا، 350 میش شیشے کا پاؤڈر اور چاول کا آٹا استعمال کیا جاسکے گا۔ کسی دوسرے مواد، کیمیکل، چپکنے والے مادے، دھات، سخت کرنے والے اجزا یا دھار تیز کرنے والے مواد کے استعمال پر پابندی ہوگی۔

انتظامیہ نے چرخی، تیز مانجھے، دھاتی تار، نائیلون یا پلاسٹک کی ڈنڈی اور کسی بھی نقصان دہ مواد سے تیار کردہ ڈور کی تیاری، تجارت، نقل و حمل، ذخیرہ کرنے، فروخت، قبضے اور استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اگلے سال لاہور میں بسنت کیسے منائی جائے گی؟

رجسٹرڈ کارخانہ داروں، تاجروں اور فروخت کنندگان کو اپنے منظور شدہ کاروباری مقامات پر رجسٹریشن سرٹیفکیٹ نمایاں جگہ پر آویزاں کرنا ہوگا۔ انہیں سامان کے ذخیرے، فروخت اور نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ بھی رکھنا ہوگا، جو ڈپٹی کمشنر کے مجاز افسران کے طلب کرنے پر پیش کرنا لازم ہوگا۔

نوٹیفکیشن میں رجسٹرڈ پتنگ بازی انجمنوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ رولز 2025 کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور بسنت کے دوران محفوظ انتظامات کے لیے ضلعی انتظامیہ اور اس کے مجاز افسران سے رابطے میں رہیں۔

لاہور میں موٹر سائیکل سواروں کے لیے بھی حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا لازمی ہوگا، جن میں موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈز کی تنصیب شامل ہے۔ تمام سرکاری محکموں، اداروں اور متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عوام کی حفاظت اور قواعد پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی معاونت کریں۔

ممنوعہ علاقے

نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران لاہور کے درج ذیل علاقوں میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔

  • طیاروں کے آنے کے راستے کے قریب

    نادرآباد، گلشن علی کالونی، نشاط کالونی، بھٹہ چوک اور ڈی ایچ اے لاہور کے بلاکس آر، ایس، پی اور کیو۔

  • طیاروں کے اڑان بھرنے کے راستے کے قریب

    الفیصل ٹاؤن، جوڑے پل، تاجورہ سے ملحقہ کینال بینک روڈ اور تاج پورہ۔

واضح رہے کہ لاہور میں بسنت پر 2007 میں پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس کی وجہ تیز دھار ڈور سے ہونے والی اموات اور شدید زخمی ہونے کے واقعات، خصوصاً موٹر سائیکل سواروں اور ان کے پیچھے بیٹھنے والے افراد کو پیش آنے والے حادثات، اور ہوائی فائرنگ کے واقعات تھے۔ رواں سال 18 سال کے وقفے کے بعد لاہور میں بسنت منانے کی اجازت دی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp