خیبر پختونخوا میں حکومت کی تبدیلی اور نئے انتظامی سیٹ اپ کے قیام کے بعد افغان باشندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے اور اگلے ماہ سے باقاعدہ کریک ڈاؤن کا آغاز ہوگا۔
وفاقی حکومت نے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں اور واضح کیا ہے کہ یکم نومبر سے پہلے تمام غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی پاکستان چھوڑ دیں، جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔
خیبر پختونخوا کے نئے سیٹ اپ میں مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے وی نیوز کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو اب واپس جانا ہوگا۔ جو بھی غیر قانونی طور پر صوبے میں مقیم ہیں، اب ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے، انہیں اپنے ملک جانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر: باڑہ چوک میں ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی سے وابستہ 50 افراد گرفتار، 25 افغان باشندے ہونے کا دعویٰ
انہوں نے بتایا کہ دنیا کے کسی ملک میں بغیر دستاویزات کے غیر قانونی طور پر رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ آپ رہیں، لیکن قانونی طور پر۔ واپس جائیں، ویزا لگوائیں اور واپس آجائیں، لیکن غیر قانونی طور پر کسی کو اب اجازت نہیں ہوگی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کا عمل جاری ہے، جبکہ اگلے ماہ کریک ڈاؤن شروع ہوگا۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا تھا کہ جو افغان اپنے ملک واپس جا رہے ہیں، انہیں غیر قانونی طور پر دوبارہ پاکستان آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق افغان باشندے واپسی کے بعد دوبارہ آتے ہیں، اس لیے اب ان کے خلاف مزید سخت کارروائی ہوگی۔
پشاور میں تعینات ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ان کی تیاری مکمل ہے اور تھانوں کی سطح پر غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کا ڈیٹا تیار کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دورِ حکومت میں بھی افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں ہو رہی تھیں، لیکن اب مزید سختی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں تقریباً 5 لاکھ غیر قانونی افغان باشندے مقیم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہر تھانے کی سطح پر متعلقہ ایس ایچ او کی سربراہی میں ایک ٹیم موجود ہے، جو کریک ڈاؤن کی نگرانی کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب سے 37 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان باشندے ڈی پورٹ؛ انخلا کا عمل تیز
پولیس افسر نے بتایا کہ دیگر صوبوں کی نسبت خیبر پختونخوا میں افغان باشندوں کی تعداد کافی زیادہ ہے، جس کی ایک وجہ گزشتہ دورِ حکومت میں حکومتی سطح پر نرمی بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب وفاقی حکومت کی جانب سے واضح ہدایات ملی ہیں کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو مزید رہائش کی کوئی گنجائش نہیں دی جائے گی۔ مقررہ وقت تک واپس نہ جانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور گرفتاری کے بعد انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔










