سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ایران کے خلاف جنگ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا، لیکن ٹرمپ نے جنگ کا راستہ اختیار کیا، جس کے اثرات اب امریکی معیشت اور عالمی تیل کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں۔
امریکی میڈیا اور خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اوباما نے ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صدر نے کئی غلط فیصلے کیے، جن میں سب سے اہم ایک ایسی جنگ شروع کرنا تھا جس کا کسی نے مطالبہ نہیں کیا تھا۔
OBAMA: “Iran didn't have nuclear weapons because I had put a deal in place that everybody acknowledged kept them from getting nukes.” pic.twitter.com/iE3wOkgVWB
— Chief Nerd (@TheChiefNerd) October 24, 2026
اوباما نے کہا کہ ان کے دورِ صدارت میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا گیا تھا، جس کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے میزائل چلانے کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اپنایا گیا تھا۔
انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جنگ میں کامیابی کے دعوؤں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود امریکی اتحادیوں اور فوجی اڈوں پر حملے ہوئے، امریکی فوجی ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جبکہ امریکی میزائلوں کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ ایران معاہدہ: نیتن یاہو کے لیے سب سے تشویشناک لمحہ، سی این این کی رپورٹ
اوباما کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت نے اسے معاشی دباؤ ڈالنے کا موقع دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال کے باعث تیل اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھی ہیں، جس سے عام اشیا کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔
اوباما نے یہ تنقید ایسے وقت کی ہے جب امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں اور وہ ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔











