چین کے آبی بجلی منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت میں تعمیر کیے جانے والے مجوزہ بڑے ہمالیائی ڈیم کے خلاف احتجاج پُرتشدد شکل اختیار کرگیا ہے۔
مظاہرین نے پولیس سے جھڑپوں کے دوران سرکاری عمارتوں کو نذرِ آتش اور متعدد املاک کو نقصان پہنچایا، جبکہ پتھراؤ سے تقریباً 40 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ریاست اروناچل پردیش میں جمعے کی رات سرکاری پن بجلی کمپنی این ایچ پی سی کے مجوزہ 11 ہزار 200 میگاواٹ کے سیانگ اپر ملٹی پرپز منصوبے کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: لداخ میں بھارتی جبر میں اضافہ، اپنے حق کے لیے احتجاج کو روکنے کے لیے اقدامات میں مزید سختی
ریاست کے وزیراعلیٰ پیما کھانڈو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مظاہرین نے پولیس اسٹیشن اور این ایچ پی سی کے دفتر کو نقصان پہنچایا، جبکہ متعدد منتخب نمائندوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔
وزیراعلیٰ کے مطابق مظاہرین کے پتھراؤ سے تقریباً 40 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے۔
پیما کھانڈو نے منصوبے کے مخالفین پر زور دیا کہ وہ تشدد کے بجائے حکومت کے ساتھ بات چیت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے سوالات کیے جائیں اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات دور کیے جائیں، نہ کہ تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے۔
Massive Dam protest in Arunachal Pradesh, India. Fearing China’s upstream dam construction, India plans to build a massive Siang dam on the Brahmaputra River. The dam may displace 150,000 indigenous people. Modi regime used teargas, protest became violent. pic.twitter.com/0WBt11EPiw
— Ashok Swain (@ashoswai) October 24, 2026
بھارت کا مؤقف ہے کہ مجوزہ ڈیم چین کے تبت میں دریائے برہم پترا کے بالائی حصے پر زیرِ غور 167 ارب ڈالر کے بڑے آبی بجلی منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔
چین کا یہ منصوبہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ترین پن بجلی منصوبوں میں شمار ہوسکتا ہے۔
نئی دہلی کو خدشہ ہے کہ چین کا منصوبہ دریائے برہم پترا میں پانی کے بہاؤ کو متاثر کرسکتا ہے، بھارتی حکام کے مطابق مجوزہ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے وسیع ذخیرہ گاہ تعمیر کی جائے گی، جس سے دریا میں پانی کے بہاؤ کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
مزید پڑھیں: ہندی کی ماہر برطانوی پروفیسر بھارت سے ڈی پورٹ، وجوہات پر بحث چھڑ گئی
تاہم بیجنگ کا کہنا ہے کہ اس کے منصوبے سے زیریں علاقوں میں پانی کے بہاؤ پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔
مجوزہ بھارتی ڈیم ملک کا اب تک کا سب سے بڑا پن بجلی منصوبہ ہوگا، تاہم مقامی آبادیوں کی جانب سے اسے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔
مقامی افراد کو خدشہ ہے کہ منصوبے کے نتیجے میں ان کے گھر اور زمینیں زیرِ آب آسکتی ہیں اور انہیں اپنے علاقوں سے بے دخل ہونا پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: مودی حکومت کا جابرانہ فیصلہ:دہائیوں بعدجنتر منتر سے احتجاجی مقام کا درجہ واپس لے لیا گیا
یہ منصوبہ دنیا کے 2 سب سے زیادہ آبادی والے ممالک، بھارت اور چین، کے درمیان کشیدگی کی بھی عکاسی کرتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان ہمالیائی سرحد متنازع ہے، جہاں ہزاروں فوجی تعینات ہیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے جمعے کو کہا تھا کہ سرحدی کشیدگی کے انتظام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں، یہ بیان بھارتی سرحدی پولیس کے اعلیٰ افسر شتروجیت کپور کی جانب سے بھارتی اور چینی افواج کے درمیان آمنے سامنے ہونے کے واقعات کی اطلاع کے بعد سامنے آیا۔










