روس نے عالمی سطح پر ایندھن کی قلت کم کرنے کے لیے امریکا کو ڈیزل فراہم کرنے کی خاطر تین ٹینکر روانہ کردیے ہیں۔ روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک کے مطابق یہ ترسیل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت کی جارہی ہے۔
روسی میڈیا کے مطابق تینوں جہاز بحرِ اوقیانوس کے مشرقی حصے کی جانب سفر کررہے ہیں۔ سمندری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق ان میں سے ایک جہاز مالٹا کے پرچم تلے سفر کرنے والا ’آگیوئی فینینڈس‘ ہے، جو تقریباً 40 ہزار ٹن ڈیزل لے کر روسی بندرگاہ پرائمورسک سے نیویارک کی جانب روانہ ہوا۔ اس کی آمد 7 نومبر کے لگ بھگ متوقع ہے۔
Suddenly now not a "shadow fleet." Will Swedish Pål Jonson orphaned them in the Baltic? I think not. #my6c
Russia sends three diesel tankers to US — RT Business News https://t.co/bg2j07tBlY— Anders Paulsson (@AndersPaulsso11) October 25, 2026
نوواک نے کہا کہ روس عالمی منڈی میں ڈیزل کی اضافی فراہمی یقینی بنائے گا۔ روس نے اکتوبر کے دوران اپنی کمپنیوں کو عالمی منڈی میں 5 لاکھ ٹن تک ڈیزل برآمد کرنے کی اجازت بھی دی ہے، تاہم ملک کی اندرونی ضروریات پوری کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔
روسی حکام کے مطابق آئندہ بھی ڈیزل کی ترسیل جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے 9 اکتوبر کو پیوٹن سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد روس سے ڈیزل کی اضافی فراہمی کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں واشنگٹن نے روسی ڈیزل کی درآمد کے لیے عارضی طور پر پابندیوں میں نرمی کی اجازت دی۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر میں بعض مقامات پر ڈیزل کی قیمت 6.50 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی تھی، جبکہ کیلیفورنیا کے بعض علاقوں میں یہ 8 ڈالر فی گیلن سے بھی زیادہ رہی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش، روس سے لاکھوں ٹن ایندھن درآمد کرنے کا فیصلہ
عالمی توانائی کی ترسیل میں خلل اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مشکلات کو ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات میں شمار کیا جارہا ہے۔










