امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس فوری طور پر امریکا اور عالمی منڈیوں کو 3 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا، جبکہ مزید ایندھن کی فراہمی بھی متوقع ہے۔ امریکا نے روسی ڈیزل کی درآمد کی اجازت دینے کے لیے پابندیوں میں عارضی نرمی بھی کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے گفتگو کے بعد بتایا کہ نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن اور اس کے بعد 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے روسی ڈیزل کی درآمد کی اجازت دینے والا لائسنس 7 اپریل تک جاری کیا ہے۔
Amid high diesel prices, Trump struck a deal with Russia to import diesel, drawing criticism from Ukrainian President Volodymyr Zelenskiy, who called the move a ‘gift to Putin’ https://t.co/IztVIGWuqJ pic.twitter.com/JI4GRe5tEX
— Reuters (@Reuters) October 10, 2026
یہ اقدام امریکا میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ امریکی ادارے اے اے اے کے مطابق جمعرات کو ڈیزل کی اوسط قیمت 6.28 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ کو 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل مہنگائی کے معاملے پر سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیوٹن کو رعایتیں دینے سے امن قائم نہیں ہوگا۔ امریکی ریپبلکن رکن کانگریس ڈان بیکن نے بھی پابندیاں نرم کرنے کے بجائے روس پر مزید دباؤ ڈالنے کی حمایت کی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کا مائیکروسافٹ سمیت بڑی آئی ٹی کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 9 جامعات بھی زیرِ تفتیش
توانائی کے ماہرین کے مطابق روسی ڈیزل کی اضافی فراہمی سے قیمتوں میں مستقل کمی کی ضمانت نہیں، تاہم اس سے عالمی منڈی میں ایندھن کی قلت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔














